امام الہند مولاناابوالکلام آزاد
عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت
ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری‘ شعبۂ اردو، گورنمنٹ آرٹس کالج (خود مختار)‘ کڈپہ۔ آندھرا پردیش
امام الہند مولاناابوالکلام آزاد
عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت
ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری‘ شعبۂ اردو، گورنمنٹ آرٹس کالج (خود مختار)‘ کڈپہ۔ آندھرا پردیش
شعبہ اردو، آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''اکیسویں صدی کا غیر افسانوی ادب: اردو، انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں ''
آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی میں غیر افسانوی ادب پر دو روزہ سیمینار کااختتام
شعبہ اردو‘ آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی نے توقع سے زیادہ کامیاب سیمینا کا انعقاد کیا - رجسٹرار پروفیسر سلمہا چلم
شعبہ اردو کے زیر اہتمام تمام زبانوں کے درمیان ہم آہنگی ممکن۔ اردو شعبہ کے زیر اہتمام لینگویج کلب اور لٹریری ایسوسی ایشن کے قیام کا اعلان۔ رجسٹرار
اردو کا غیر افسانوی ادب نہایت ثروت مند ہے- پروفیسر نسیم الدین فریس
اردو خالص ہندوستانی زبان ہے۔آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی میں غیر افسانوی ادب پر سیمینار کا انعقاد قابلِ ستائش ہے۔ پروفیسر قاسم علی خان
آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں مستقل اساتذہ کا تقرر کیا جائے تاکہ یہاں ریسرچ بھی شروع کیا جاسکے۔ پروفیسر قاسم علی خان کا تلگو میں افتتاحی خطاب
شعبہ اردو کی جانب سے اردو ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ کورس بھی شروع کیے جائیں۔ پروفیسر سمہاچلم‘ رجسٹرار
مجھے خوشی ہے کہ آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے بنیاد گزاروں میں شامل ہوں۔ پروفیسر فضل اللہ مکرم
اردو کے غیر افسانوی ادب پر یہ سیمینار تاریخ ساز ثابت ہوگا۔ پروفیسر محمد نثار احمد صدرنشین مجلس نصاب (اے این یو)
آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے سیمینار میں عمری برادران کی قابلِ لحاظ تعداد نے شاندار مقالات پیش کیے۔وصی بختیاری
شعبہ اردو کے قومی سیمینار میں اردو کے علاوہ انگریزی اور جنوبی ہند کی دراوڑی زبانوں کے غیر افسانوی ادب کی شمولیت اہمیت کی حامل ہے۔ پروفیسر سریش کمار‘ ڈائرکٹر
گنٹورشعبہ اردو، آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''اکیسویں صدی کا غیر افسانوی ادب: اردو، انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں '' مو?رخہ 27 اور 28 فروری 2025کو منعقدہ دو روزہ کامیاب سیمینار بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس سیمینار کا افتتاح آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر سمہاچلم نے کیا۔ یونیورسٹی کا ترانہ پیش کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس سے پروفیسر سید فضل اللہ مکرم، پروفیسر قاسم علی خان، پروفیسر رضوان الرحمان، پروفیسر سریش کمار اور پروفیسر محمد نثار احمد نے خطاب کیا۔اپنے افتتاحی خطاب میں یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر سمہاچلم نے شعبہ اردو کی ستائش کی اور کہا کہ اردو دنیا کی قدآور شخصیات کو یہاں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ یہ سیمینار میری توقع سے زیادہ کامیاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ اردو شعبے کے پہلے سیمینار میں کثیر تعداد میں مقالہ نگاروں کی شرکت اردو شعبہ کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ انہوں نے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر سریش کمار، ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا کو مبارکباد دی کہ سیمینار توقع سے زیادہ کامیاب ہوا کہ اس دوروزہ قومی سیمینار میں تقریباً پچاس سے زائد مقالہ نگاراپنے مقالات پیش کریں گے۔ رجسٹرار نے افتتاحی اجلاس میں مہمانوں اور مجلس مشاورت کے ارکان کو تہنیت پیش کی۔ پروفیسر قاسم علی خان،پروفیسر سید فضل اللہ مکرم (ایچ سی یو)، پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر رضوان الرحمان (جے این یو)، پروفیسر محمد نثار احمد (ایس وی یو)، ڈاکٹر محمد محبوب(کندوکور)، پرنسپل ناگور ولی(کندوکور)،ڈاکٹر ایم بی امان اللہ(چینائی) ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری (کڈپہ) اور شریمتی نلنی کی رجسٹراراور سیمینار ڈائرکٹر نے شال پوشی کی اور یادگاری میمنٹو پیش کیا۔ شعبہ اردو کی رابطہ کار ڈاکٹر شیخ شہباز نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پیش کیے۔ پروفیسر رضوان الرحمان نے غیر افسانوی ادب کی تاریخ اور عربی و اردو کے غیر افسانوی ادب کا جائزہ لیا۔ سیمینار کا مرکز توجہ پروفیسر نسیم الدین فریس‘ سابق ڈین اور صدر شعبہ اردو‘ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کا کلیدی خطبہ رہا جس میں انھوں نے غیر افسانوی ادب کی تمام اصناف کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز تاحال ہر صنف کے ممتاز قلمکاروں اوران کے نمائندہ تحریروں کا تعارف‘ خاص طور پر اکیسویں صدی میں غیر افسانوی اصناف کے موجودہ موقف کو پیش کیا۔
سیمینا کی پہلی نشست پروفیسر سید فضل اللہ مکرم اور پروفیسر محمد نثار احمدکی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میں ڈاکٹر کے پی شمس الدین ترورکاڈ کیرلا(اکیسویں صدی میں سائنسی اردومضمون نگاری)ڈاکٹر نشاط احمد عمری (احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری)، ڈاکٹر حکیم رئیس فاطمہ(مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں کی امتیازی خصوصیات)، ڈاکٹر محمد فیض اللہ (انتظار حسین کی خودنوشت جستجو کیا ہے ایک مطالعہ)، ڈاکٹر فاروق باشا عمری(مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری کی خاکہ نگاری)، شیخ ناگور ولی(صغیر افراہیم کی ادبی خدمات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)، مستان ولی(صادقہ نواب سحر کی ادھوری آپ بیتی)۔اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سی فوزیہنے انجام دیے۔ پروفیسر سید فضل اللہ مکرم کا صدارتی خطاب لاجواب رہا۔
دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر امان اللہ اور ڈاکٹر شمس الدین ترورکاڈنے کی۔ اس نشست میں شیخ نازیہ(ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی مضمون نگاری طنز و مزاح کے حوالے سے)، شیخ شیما(مجتبی حسین کی مضمون نگاری)، بی بی عالیہ(غیر افسانوی نثری اصناف ایک جائزہ)، عبد الرشید(مجتبی حسین کی سفرنامہ نگاری)، عبد الرزاق(وہاب عندلیب کی خاکہ نگاری گفتار و کردار کے حوالے سے)۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سی فوزیہنے انجام دیے۔
تیسری نشست کی صدارت پروفیسر محمد نسیم الدین فریس اور پروفیسر قاسم علی خان نے کی جس میں سید فاطمہ بی(آپ بیتی)، ڈاکٹر ای محمد انور حسین(دنیا مرے آگے کی روشنی میں تقی عثمانی کی سفرنامہ نگاری)، ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری(کوئی بات اٹھا نہ رکھنا کی روشنی میں رفیعہ نوشین کی رپورتاژ نگاری)، ڈاکٹر محمد محبوب(مجتبیٰ حسین کی غیر افسانوٰ نثر)، سراج(سلیمان اطہر جاوید کی خاکہ نگاری)، ڈاکٹر نور اللہ(پروفیسر مختار الدین آرزو کی مکتوب نگاری)، ڈاکٹراطیع اللہ شاہد(ابن کنول بحیثیت سفرنامہ نگار) اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبیر باشا نے انجام دیے۔
چوتھی نشست کی صدارت ڈاکٹر نشاط احمد عمری اور ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری نے کی۔ اس نشست کے مقالہ نگاران‘ڈاکٹر ظہیر دانش عمری(مولانا حفیظ الرحمان اعظمی عمری مدنی کی سفرنامہ نگاری)، ستار فیضی کڈپوی(جنوبی ہند میں غیر افسانوی ادب اطفال بچوں کے رسائل کے حوالے سے)، افروز بیگم (صادقہ نواب سحر کی آپ بیتی)، محمد نذیر مہک (اکیسویں صدی میں مضمون نگاری اور درپیش مسائل)، ابوبکر صدیق قاسمی (شمس الرحمان فاروقی کی تنقید نگاری)، حافظ ابوطلحہ عمری (مسجدوں کا شہر-سفرنامہ قطر مولانا حفیظ الرحمان اعظمی عمری مدنی کا تجزیاتی مطالعہ)اور شیخ خالد سعید عمری مدنی (آندھرا پردیش کا منفرد سالنامہ ندائے دار البر اردو صحافت کے آئینے میں (تعارف وتجزیہ)۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبیر باشا نے انجام دیے۔
دوسرے دن 28فروری کو اردو، انگریزی اور تلگو کے لیے متوازی نشستیں منعقد ہوئیں۔ ڈاکٹر شمس الدین ترورکاڈ اور امام باشا نے صدارت کی اور مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر بی بی عائشہ (ڈاکٹر راہی فدائی کی غیر افسانوی ادبی کاوشیں)، شیخ اکرام اللہ عمری (غیر افسانوی اصنافِ نثر کا عمومی جائزہ) اور دیگر اسکالرس اور طلبہ نے مقالے پیش کیے۔ متوازی نشستوں میں انگریزی اور تلگو میں بھی غیر افسانوی ادب پر گرانقدر مقالات پیش کیے گئے۔
وائس چانسلر پروفیسر گنگادھر راؤ نے اختتامی اجلاس کو خطاب کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا کو اسناد پیش کیں۔ شیخ ناگور ولی، امام باشا، حافظ ابوطلحہ عمری اور شیخ خالد سعید عمری مدنی کے علاوہ شیخ اکرام اللہ عمری کو اسناد تقسیم کیں۔
دوسرے دن پہلی نشست کی صدارت ڈاکٹر شمس الدین تروکاڈ اور لین امام بادشاہ نے کی اور اس نشست کے مقالہ نگاران میں شامل تھے انور حسین (افضل العلماء ڈاکٹر محمد عبدالحق بحیثیت جدید تعلیم کے موجد)، ڈاکٹر جی بی عائشہ (راہی فدائی کی تحقیق و تنقید نگاری)، ڈاکٹر شبیر بادشاہ (شہناز نبی کا سفر نامہ کشمیر جنت نظیر کا تجزیہ)، رحمت اللہ (اردو میں خاکہ نگاری) اور ڈاکٹر شہباز (اکیسویں صدی کے خودنوشت اور خودنوشت نگَار)
اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر سریش کمارنے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر رتناشیلامنی نے شرکت کی۔ مہمان اعزای پروفیسر جی اوما مہیشور راؤ اور ڈاکٹر کوی کوٹیشورلو نے خطاب کیا۔ اختتامی نشست میں سامعین اور مقالہ نگاروں نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا نے ہدیہ تشکر پیش کیا اور مقالہ نگاروں کو اسناد تقسیم کیں جس پر بحسن و خوبی اس شاندار یادگار کامیاب تاریخ ساز سیمینارکا اختتام عمل میں آیا۔