صفحات

اتوار، 30 نومبر، 2025

امام الہند مولاناابوالکلام آزاد عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت

  امام الہند مولاناابوالکلام آزاد

عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری‘ شعبۂ اردو، گورنمنٹ آرٹس کالج (خود مختار)‘ کڈپہ۔ آندھرا پردیش

        امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد (11 نومبر 1888 — 22 فروری 1958) ایک عظیم عبقری شخصیت کے حامل تھے۔ وہ ایک عظیم نابغہ عصر تھے، ایک بے بدل خطیب اور مایہ ناز ادیب تھے‘ جو اپنے اسلوب ِنگارش کے خود ہی موجد اور خاتم تھے۔ مولانا آزاد کے متنوع فضائل و کمالات اور گوناگوں خصائص و امتیازات میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آپ کے منجملہ اوصافِ عالی میں کس وصف کو مابہ الامتیاز قرار دیا جائے۔ صاحب ترجمان القرآن بحیثیت مفسر قرآن، ماہرِ احادیث و روایات، دیدہ ور مؤرخ، کلامی مسائل و معقولات کے ماہر فلسفی و متکلم، تذکرہ و سوانح نگار، الہلال و البلاغ کے بے باک صحافی، سیاست کے نبّاض و سیّاس، دور اندیش مفکّر و مدبّر، خوش فکر شاعر، صاحب طرز ادیب، منفرد انشا پرداز، اردو میں انانیتی ادب کے سب سے بڑے علمبردار، مولانا آزاد ایسی ہشت پہل شخصیت کے کمالات کے بارے میں یہ تعین یقینا مشکل ہے کہ آپ کی جامع الکمالات شخصیت کے اوصاف و کمالات کا کونسا زاویہ اہم ہے اور کس پہلو سے زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔
        جہاں تک ایک ادیب و انشاء پرداز کی حیثیت سے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مقام و مرتبہ کا تعین ہے، اردو تنقید متفق اللفظ ہے کہ اردو ادب میں مولانا آزاد کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انھوں نے خود اپنا اسلوب ایجاد کیا۔ ان کا اسلوب صرف ان ہی سے خاص ہے۔ وہ ایک ایسے اسلوب کے موجد ہیں، جوخود ان پر ختم ہے۔ ان کے اسلوبِ نگارش پر محققین و ناقدین نے بطورِ خاص توجہ کی۔ اسلوب نگارش خود ایک وسیع الاطراف اور طویل الذیل موضوع ہے۔
         مولانا آزاد اپنی صحافتی تحریروں میں جہاں ایک جری، بے باک اور صاحب ِعزیمت قلمکار کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے ہیں، وہیں ان میں ایک ایسا دانشور، مفکرا ور مدبر بھی صاف نمودار ہوتا ہے‘ جس کی دور اندیش نظریں اقوام و ملل کی تاریخ کا تجزیہ کرتی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں غیرتِ ایمانی اور حمیت اسلامی کے احساسات و جذبات سے سرشار ایک ایسے مردِ مومن نظر آتے ہیں جن کے پیش نظر حزب اللہ کی ایسی تشکیل مقصود تھی‘ جو تعلیمات الٰہی کے مطابق ہو‘ تاکہ وہ عزیمت و عظمت کا ایسا مینار بنے‘ جس کے لیے غلبہ موعود اور تمکن فی الارض موجود ہے۔
         امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد‘ ایک عظیم مفکر و مدبر‘ دوراندیش دانشور اور ایک عظیم نابغۂ عصر تھے۔آزاد شناسی ایک طویل الذیل موضوع ہے جس کے بہت سے پہلو ہیں۔ مولانا آزاد کی شخصیت کے مطالعہ کے کئی زاویے ہیں۔ مولانا آزاد ایسی شخصیات‘ نابغہ عصر اور عبقرئ دہر ہوا کرتی ہیں اور ان کی فکر صدیوں پر محیط ہوا کرتی ہے۔ دین و دانش، علم و ادب، شعر و سخن، ادب و انشا کی مختلف سمتوں کے علاوہ فکر و نظر اور فلسفہ و نظریہ کے اعتبار سے بھی آزادیات اور ابوالکلامیات کے مباحث انتہائی غور و فکر اور خاص توجہ و التفات کے طالب ہیں۔ مولانا آزاد کی شخصیت اور فکر و نظر کے مختلف ابعاد اور جہات ہیں۔ بحیثیت مفسر قرآن‘ بحیثیت عالم دین‘ بحیثیت خطیب‘ بحیثیت نظریہ ساز‘ بحیثیت ادیب‘ بحیثیت شاعر‘ بحیثیت صحافی‘ بحیثیت انشا پرداز‘ بحیثیت مفکر‘ بحیثیت مدبر‘ بحیثیت متکلم‘ بحیثیت مؤرخ‘ بحیثیت مجاہد آزادی‘ بحیثیت تحریکِ آزادی کے سرخیل‘ بحیثیت علمبردار یکجہتی‘ بحیثیت منادِ متحدہ قومیت‘ بحیثیت صدر کانگریس‘ بحیثیت وزیر عبوری حکومت‘ بحیثیت اولین وزیر تعلیم حکومتِ ہند‘ ہندوستانی نظامِ تعلیم کے معمار.....اور فی الواقع‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات کا ہر ایک پہلو ایک طویل الذیل پہلو رکھتا ہے۔
        مولانا آزاد‘ 1939میں آل انڈیا کانگریس کے قائم مقام صدر بنائے گئے۔ 1940میں آل انڈیا کانگریس کے باضابطہ صدر منتخب ہوئے اور آزادی سے عین قبل تک وہی صدر کانگریس رہے۔ انھوں نے 1947میں آزادی کے بعد مرکزی حکومت کی اولین کابینہ کے رکن اور ملک کے اولین وزیر تعلیم کی حیثیت سے 15 اگست کو حلف لیا۔ 1952 میں مولانا آزاد‘ تعلیم‘ قدرتی ذرائع اور سائنسی تحقیقات کے وزیر بنے۔ 1957 میں دوسری مرتبہ وزیر تعلیم بنائے گئے اور وہ اس منصب پر تاحیات فائز رہے۔ گویا ان کی مدت وزارت‘ 15 اگست 1947 سے 22 فروری 1958 تک رہی۔
        مولانا آزاد نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے ملک کو ایک عمدہ تعلیمی نظام عطا کیا۔ انھوں نے یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) قائم کیا۔ صنعت و حرفت کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے‘ جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس‘ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ انڈین کونسل فارایگر یکلچرل اینڈ سائنٹیفک ریسرچ‘ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز‘ ساہتیہ اکیڈمی‘ للت کلا اکیڈمی‘ سنگیت ناٹک اکیڈمی‘ نیشنل آرکائیوز‘ نیشنل میوزیم اور مرکزی تجربہ گاہیں شامل ہیں۔ وزیر تعلیم کی حیثیت سے تعلیم کے لیے سینٹرل ایڈوائزری بورڈوغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا آزاد کے بعد‘ ملک کی جو تعلیمی ترقی ہوئی‘ اور ملک کے لیے جن تعلیمی پالیسیوں کو تیار کیا گیا‘ ان پر بھی مولانا آزاد کی بصیرت‘ اور ان کے تعلیمی افکار و نظریات کے اثرات صاف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
        مولانا آزادکے مختلف پہلوؤں میں‘ وزارت تعلیم کی مدت کار اور بحیثیت وزیر تعلیم ان کی مختلف النوع گرانقدر خدمات اور دوراندیشی کے حامل اقدامات‘ ناقابلِ فراموش ہیں۔ مولانا آزاد کی حیات کے آخری گیارہ سال‘ آزادئ ہند کے بعد سے 1958 تک ملک کے تعلیمی معیار میں اضافہ کرنے‘ تعلیمی نظام کے سمت و رفتار متعین کرنے‘ تعلیمی مقاصد و اہداف کے تعین اور اس منصوبہ بندی کے مطابق حصولیابی کے لیے نظم وانتظام اور اہتمام و انصرام کرنے سے عبارت ہیں۔ مولانا آزاد کے افکار و نظریات‘ ان کے تعلیمی مقاصد و تصورات اور دانش و بینش نے ملک کے تعلیمی نظام کے لیے کلیدی اور بنیادی کردار ادا کیا۔ آج بھی مولانا آزاد کی تعلیمی پالیسی اور ان کے افکار کی معنویت برقرار ہے۔ ہندوستان کا تعلیمی نظام‘ قانونِ حقِ تعلیم اور تعلیمی اصلاحات‘ نیز ان کے قائم کردہ شاندار ادارے‘ ہمیشہ انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے رہیں گے۔ مولانا آزاد کی تعلیمی بصیرت‘ فکر و نظر اور دوراندیشی و دانش مندی اور ان کی خدمات جلیلہ کے روشن نقوش‘ ان کی عظیم الشان خدمات اوران کے تعلیمی افکار و نظریات‘ اقدار اور تصورات اور جدید ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمہ جہت تعلیمی خدمات کے روشن و تابندہ نقشِ قدم‘ نشانِ راہ بن کر مستقبل میں بھی رہبری و رہنمائی کرتے رہیں گے۔
        امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت‘ ایک عظیم انقلابی شخصیت ہے۔ ان کی تحریریں‘ دین و ادب کا شاندار امتزاج ہیں۔ ان کی تحریروں میں جہاں علم و ادب موجزن ہے‘ وہیں آپ کی تقاریر بھی ادبِ عالیہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ بلاشبہ‘ مولانا آزاد کی تقریروں اور ان کے انقلابی خطبات نے ہندوستان کی تاریخ میں اپنی اہمیت درج کروائی ہے۔ مولانا آزاد کے خطابات کا یہ عالم ہوتا تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع ساکت و صامت ہو کر بغور سننے پر مجبور ہو جایا کرتا تھا۔ ان کے روزِ بیان اور قادر الکلامی کے واقعات مشہور ہیں۔ ان کی خطیبانہ شان کا یہ عالم تھا کہ ان کی وہ تقاریر و خطبات‘ آج بھی اپنے خطیبانہ جوش اور روبط و تسلسل اور اپنی اثر آفرینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے خطبات شدتِ وفورِ جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے خطبات میں‘ ان کی علمیت و ادبیت کا مظاہرہ پورے کمال کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کے افکار و خیالات‘ پوری صفائی کے ساتھ آپ کے خطبات‘ خطیبانہ شان اور علمی و ادبی رنگ اور استدلالی طرزِ کلام کا پیکر ہیں۔ آج بھی جب ’خطباتِ آزاد‘ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو مولانا آزاد کے افکار و خیالات‘ اپنی پوری آب و تاب اور معقولیت و زورِ استدلال کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔
       ’غبار خاطر‘ میں مرصع کاری‘ رنگینی اور آراستگی کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔ لفظی رعایتیں اور مناسبات‘ جملوں کی متوازن ترکیب‘ ترتیب کے بدلے ہوئے پیرائے‘ نت نئے تلازمات اور نادر ہ کار ترکیبات’ غبار خاطر‘ کی دلآویزی اور دلکشی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں اور قاری‘ مولانا آزاد کی تحریروں کے طلسم میں قید ہوکر رہ جاتا ہے۔ اردو ادب میں کوئی کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ کا جواب نہیں پیش کرسکتی۔ آپ نے اپنے زورِ قلم سے انشا پردازی کے بے مثل جواہر پاروں کو اپنے خطوط کی زینت بنایا ہے۔ ’غبارِ خاطر‘ مولانا آزاد کا ایک ادبی شاہکار ہے۔ قلعۂ احمد نگر کے واقعات و مشاہدات اور مولانا آزاد کے مختلف موضوعات پر پیش کردہ افکار و خیالات‘ اپنی انفرادیت‘ اسلوب کی دلکشی اور طرزِ نگارش کی جاذبیت کے باعث ”غبارِ خاطر“ ناقدانِ ادب کو ہمیشہ اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہے۔ ایامِ اسارت میں‘ نظر بندی کے دوران‘ قیدو بند کی صعوبتوں کے باوجود‘ ایک جگہ ’غبارِ خاطر‘ میں مثبت سوچ اور ایجابی فکر کے ساتھ پرامید اور حوصلہ مندی کے ساتھ کیا خوب لکھتے ہیں کہ: ”……جس قید خانے میں صبح ہر روز مسکراتی ہو‘ جہاں شام ہر روز پردۂ شب میں چھپ جاتی ہو‘ جس کی راتیں کبھی ستاروں کی قندیلوں سے جگمگانے لگتی ہوں‘ کبھی چاندنی کی حسن افروزیوں سے جہاں تاب رہتی ہو‘ جہاں دوپہر ہر روز چمکے‘ شفق ہر روز نکھرے‘ پرند ہر صبح و شام چہکیں‘ اسے قید خانہ ہونے پر بھی عیش و عشرت کے سامانوں سے خالی کیوں سمجھ لیا جائے؟۔“
غبارِ خاطر کے خطوط کا اسلوب اور طرز بیان‘ انتہائی دلکش اور دلآویز ہے۔ غبار خاطرکی نثر میں وہی تاثیر و تاثرکی کیفیت ہے‘ جو عام طور پر شاعری کے ساتھ مخصوص ہے۔ غبار خاطر کے بعض نثر پارے قاری کو ایک مخصوص جمالیاتی تجربہ کا احساس دلاتے ہیں۔ حکایت زاغ و بلبل کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو: ”زمستان کی برف باری اور پت جھڑ کے بعد‘ جب موسم کا رخ پلٹنے لگتا ہے اور بہار اپنی ساری رعنائیوں اور جلوہ فروشیوں کے ساتھ باغ و صحرا پر چھاجاتی ہے تو اس وقت برف کی بے رحمیوں سے ٹھٹھری ہوئی دنیا یکایک محسوس کرنے لگتی ہے کہ اب موت کی افسردگیوں کی جگہ زندگی کی سرگرمیوں کی ایک نئی دنیا نمودار ہوگئی۔ انسان اپنے جسم کے اندر دیکھتا ہے تو زندگی کا تازہ خون ایک ایک رگ کے اندر ابلتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے سے باہر دیکھتا ہے تو فضا کا ایک ایک ذرّہ عیش و نشاط ہستی کی سرمستیوں میں رقص کرتا نظر آتا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو کل تک محرومیوں کی سواری اور افسردگیوں کی جان کاہی تھی‘ آج آنکھ کھولیے تو حسن کی عشوہ طرازی ہے‘ کان لگائیے تو نغمہ کی جاں نوازی ہے‘ سونگھئے تو سرتا سر بو کی عطر بیزی ہے۔“
         امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی مختلف الجہات اور متنوع الابعاد‘ ہمہ جہت‘ ہشت پہل شخصیت کے بارے میں‘ اپنی تمہید میں‘ میں نے تفصیل سے عرض کیا ہے کہ کئی پہلو اور کئی زاویے ایسے ہیں‘ جن سے مولانا آزاد کی خدمات اور ان کی شخصیت کے فکری ابعاد کے مختلف پہلوؤں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الواقع‘ علم و ادب کے وابستگان کا یہ احساس کسی قدر مبنی بر حقیقت ہے کہ مولانا آزاد کی تحریک ِ آزادئ ہند کی عملی سیاسی جدو جہد جس میں وہ ایک متحرک‘ دوراندیش قائد کی حیثیت سے مسلسل اجلاس‘ اسفار‘ اسارت اور قید وبند کی وجہ سے ان کے شاندار علمی کاموں میں مسلسل حرج ہوتا رہا‘ گویا حالات کا جبر‘ ان کے علمی و ادبی مشاغل میں خلل انداز ہوتا رہا۔ بے شمار علمی منصوبے تشنۂ اشاعت رہ گئے۔ بارہا ان کے وقیع علمی و قلمی سرمایہ کو تلف کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ ترجمان القرآن کے مسودات بھی کئی بار نذرِ آتش کر دیے گئے۔ ایسے کئی علمی و تحقیقی منصوبے تشنۂ تکمیل رہ گئے‘ جو مولانا آزاد کے خلاق ذہن اور ان کی مدتوں پر مشتمل غور و فکر اور فکر و نظر کے شاہکار تھے۔ مولانا آزاد کی نگارشات‘ جو معجزۂ قلم کی نمود ہیں‘ ان سے جب سیرابی نہیں ہوتی تو اہلِ علم و فضل کس طرح شکوہ کناں ہوتے ہیں‘ اس کی ایک مثال میرے استاذِ محترم حضرت مولانا حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی‘ سابق ناظم‘ جامعہ دارالسلام‘ عمرآباد‘ جو مولانا آزاد کی عبقریت سے کماحقہٗ واقف و آگاہ‘ ان کی علمیت اور ادبیت کے قدردان‘ ان کے اسلوب ِ نگارش کے دلدادہ‘ ان کے علمی و ادبی کمالات کے معترف تھے‘ اپنے مقالہ بعنوان: ”امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی جلالت اور شانِ عزیمت“ میں ایک لکھتے ہیں: ”مولانا کی وقیع نگارشات کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ کاش آپ کی پوری حیات گرانمایہ علوم وفنون کے لیے وقف ہوتی۔ اگر ایساہوتا تو علم وفن کے کیسے کیسے انمول موتی اور جواہرپارے آج دنیا کی آنکھوں کی چکا چوند کرہے ہوتے، عرصۂ تحقیق میں ہلچل مچ جاتی، میدان انشا وادب میں لعل وگہر کی دکانیں سجتیں، شعر وسخن کی نئی بستیاں آباد ہوتیں، فکر ونظر کے چراغ جلتے، حکمت ودانائی کے گہر رُلتے، فصاحت و بلاغت کے غنچے کھلتے اور معانی و معارف کے کتنے ہی دفتر کھلتے۔“
         اسی طرح‘ آزادیات اور ابوالکلامیات‘ کے ایک ممتاز ماہر‘ مولانا محمد شعیب عمری بنگلوری قابلِ ذکر ہیں جنھوں نے مولانا آزاد پر نہایت وقیع علمی کام کیا ہے۔ انھوں نے "مولانا آزاد کی دینی زندگی" پر ایک دستاویزی کتاب بھی لکھی ہے۔ انھوں نے ایک گرانقدر محققانہ مقالہ لکھا ہے‘ جو امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے تبحرِحدیث کے موضوع پر ہے۔ صحیفہ‘ عمرآباد میں مطبوعہ ان کے اس مقالے کے اختتامی حصے سے ایک اہم ترین اقتباس پر اس مقالہ کو ختم کر رہا ہوں‘ جس میں مولانا محمد شعیب عمری نے مولانا آزاد کی علمی اور مذہبی تحریروں کی سات خصوصیات کو خصوصیات کو عمدگی کے ساتھ اجاگر کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے:
”٭قرآن وحدیث کے انوار وتجلیات سے روشن ہو کر رعنائی بوقلموں کے ساتھ نظر افروز اور بصیرت فرما ہوتی ہیں۔
٭ان میں علوم ومعارف کے کنوز‘حقائق ودقائق کے خزائن دفن ہیں‘ تو حکمت و موعظت کی کائنات بھی بسی ہوتی ہے۔
٭ان میں محبت ِ خالق اور عشقِ رسول کی طلائی ونقرئی جدولیں بھی نہایت ایمان افروز قوت کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہیں۔
٭لفظ لفظ میں کمالِ اخلاص کی نمود ہوتی ہے تو جمالِ تقویٰ کا ظہور بدرجہئ تمام جلوہ بیز ہوتا ہے۔
٭رقت‘ خشیت الٰہی اور سوز وگداز‘ سوادِ حروف کے اندر‘ اس انداز سے حلول کر گیا ہے کہ پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے‘ مولانا نے اپنے دل کی قاشیں اور جگر کے ٹکڑے پیوست ِعبارت کر دیے ہیں۔
٭ایک ایک فقرے‘ ایک ایک جملے اور ایک ایک سطر میں اعجاز اور اثر‘ ایسا سرایت کرگیا ہے‘ جیسے روحِ نکہت پھول کی حسین پنکھڑیوں میں جذب ہوگئی ہے۔
٭لیکن ادب و انشا کے چمنستانِ ہزار رنگ میں ان کے گوہر نگار قلم نے ایسے وجدآفریں انداز میں گہر افشانی کی ہے کہ نکتہ سنجانِ علم وادب جھوم جھوم اٹھتے ہیں اور یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ مولانا کی تحریر کا ایک ایک لفظ گلاب کی طرح شاداب‘ پھول کی طرح عطر بیز‘ اور سورج کی طرح روشن اور چمک دار ہے۔ استعارات‘ تشبیہات اور تمثیلات کی دل فریبیوں اور حسن افروزیوں کے ساتھ مطالب و مفاہیم کی لطافت و حلاوت کا بھی ایسا دل آویز اختلاط ہے‘ جیسے قوس قزح کے رنگ باہم دگر بغل گیر ہوگئے ہیں۔“ (یادگاری مجلہ صحیفہ‘ عمرآباد 1977، ص: 72اور 73)۔
(گیارہ نومبر 2025 کے اخبارات کے تراشے منسلک ہیں۔)
ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری










جمعہ، 28 فروری، 2025

شعبہ اردو، آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''اکیسویں صدی کا غیر افسانوی ادب: اردو، انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں ''

 

غیر افسانوی ادب پر گنٹور میں شاندار سیمینا کا انعقاد

شعبہ اردو، آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''اکیسویں صدی کا غیر افسانوی ادب: اردو، انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں '' 

آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی میں غیر افسانوی ادب پر دو روزہ سیمینار کااختتام

شعبہ اردو‘ آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی نے توقع سے زیادہ کامیاب سیمینا کا انعقاد کیا - رجسٹرار پروفیسر سلمہا چلم

شعبہ اردو کے زیر اہتمام تمام زبانوں کے درمیان ہم آہنگی ممکن۔ اردو شعبہ کے زیر اہتمام لینگویج کلب اور لٹریری ایسوسی ایشن کے قیام کا اعلان۔ رجسٹرار 

اردو کا غیر افسانوی ادب نہایت ثروت مند ہے- پروفیسر نسیم الدین فریس

اردو خالص ہندوستانی زبان ہے۔آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی میں غیر افسانوی ادب پر سیمینار کا انعقاد قابلِ ستائش ہے۔ پروفیسر قاسم علی خان

آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں مستقل اساتذہ کا تقرر کیا جائے تاکہ یہاں ریسرچ بھی شروع کیا جاسکے۔ پروفیسر قاسم علی خان کا تلگو میں افتتاحی خطاب

شعبہ اردو کی جانب سے اردو ڈپلوما اور سرٹیفیکیٹ کورس بھی شروع کیے جائیں۔ پروفیسر سمہاچلم‘ رجسٹرار 

مجھے خوشی ہے کہ آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے بنیاد گزاروں میں شامل ہوں۔ پروفیسر فضل اللہ مکرم 

اردو کے غیر افسانوی ادب پر یہ سیمینار تاریخ ساز ثابت ہوگا۔ پروفیسر محمد نثار احمد صدرنشین مجلس نصاب (اے این یو) 

آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے سیمینار میں عمری برادران کی قابلِ لحاظ تعداد نے شاندار مقالات پیش کیے۔وصی بختیاری 

شعبہ اردو کے قومی سیمینار میں اردو کے علاوہ انگریزی اور جنوبی ہند کی دراوڑی زبانوں کے غیر افسانوی ادب کی شمولیت اہمیت کی حامل ہے۔ پروفیسر سریش کمار‘ ڈائرکٹر 

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری کی رپورٹ - 28 فروری 2025

گنٹورشعبہ اردو، آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی، گنٹور میں منعقدہ دو روزہ قومی سیمینار بعنوان ''اکیسویں صدی کا غیر افسانوی ادب: اردو، انگریزی اور جنوبی ہند کی زبانوں میں '' مو?رخہ 27 اور 28 فروری 2025کو منعقدہ دو روزہ کامیاب سیمینار بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس سیمینار کا افتتاح آچاریہ ناگارجنا یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر سمہاچلم نے کیا۔ یونیورسٹی کا ترانہ پیش کیا گیا۔ افتتاحی اجلاس سے پروفیسر سید فضل اللہ مکرم، پروفیسر قاسم علی خان، پروفیسر رضوان الرحمان، پروفیسر سریش کمار اور پروفیسر محمد نثار احمد نے خطاب کیا۔اپنے  افتتاحی خطاب میں یونیورسٹی کے رجسٹرار پروفیسر سمہاچلم نے شعبہ اردو کی ستائش کی اور کہا کہ اردو دنیا کی قدآور شخصیات کو یہاں دیکھ کر خوشی ہو رہی ہے۔ یہ سیمینار میری توقع سے زیادہ کامیاب ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوزائیدہ اردو شعبے کے پہلے سیمینار میں کثیر تعداد میں مقالہ نگاروں کی شرکت اردو شعبہ کی مقبولیت کی دلیل ہے۔ انہوں نے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر سریش کمار، ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا کو مبارکباد دی کہ سیمینار توقع سے زیادہ کامیاب ہوا کہ اس دوروزہ قومی سیمینار میں تقریباً پچاس سے زائد مقالہ نگاراپنے مقالات پیش کریں گے۔ رجسٹرار نے افتتاحی اجلاس میں مہمانوں اور مجلس مشاورت کے ارکان کو تہنیت پیش کی۔ پروفیسر قاسم علی خان،پروفیسر سید فضل اللہ مکرم (ایچ سی یو)، پروفیسر نسیم الدین فریس، پروفیسر رضوان الرحمان (جے این یو)، پروفیسر محمد نثار احمد (ایس وی یو)، ڈاکٹر محمد محبوب(کندوکور)، پرنسپل ناگور ولی(کندوکور)،ڈاکٹر ایم بی امان اللہ(چینائی) ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری (کڈپہ) اور شریمتی نلنی کی رجسٹراراور سیمینار ڈائرکٹر نے شال پوشی کی اور یادگاری میمنٹو پیش کیا۔ شعبہ اردو کی رابطہ کار ڈاکٹر شیخ شہباز نے سیمینار کے اغراض و مقاصد پیش کیے۔ پروفیسر رضوان الرحمان نے غیر افسانوی ادب کی تاریخ اور عربی و اردو کے غیر افسانوی ادب کا جائزہ لیا۔ سیمینار کا مرکز توجہ پروفیسر نسیم الدین فریس‘ سابق ڈین اور صدر شعبہ اردو‘ مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدرآباد کا کلیدی خطبہ رہا جس میں انھوں نے غیر افسانوی ادب کی تمام اصناف کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اکیسویں صدی کے آغاز تاحال ہر صنف کے ممتاز قلمکاروں اوران کے نمائندہ تحریروں کا تعارف‘ خاص طور پر اکیسویں صدی میں غیر افسانوی اصناف کے موجودہ موقف کو پیش کیا۔  

سیمینا کی پہلی نشست پروفیسر سید فضل اللہ مکرم اور پروفیسر محمد نثار احمدکی صدارت میں منعقد ہوئی۔ اس میں ڈاکٹر کے پی شمس الدین ترورکاڈ کیرلا(اکیسویں صدی میں سائنسی اردومضمون نگاری)ڈاکٹر نشاط احمد عمری (احمد ندیم قاسمی کی خاکہ نگاری)، ڈاکٹر حکیم رئیس فاطمہ(مستنصر حسین تارڑ کے سفرناموں کی امتیازی خصوصیات)، ڈاکٹر محمد فیض اللہ (انتظار حسین کی خودنوشت جستجو کیا ہے ایک مطالعہ)، ڈاکٹر فاروق باشا عمری(مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری کی خاکہ نگاری)، شیخ ناگور ولی(صغیر افراہیم کی ادبی خدمات کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ)، مستان ولی(صادقہ نواب سحر کی ادھوری آپ بیتی)۔اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سی فوزیہنے انجام دیے۔ پروفیسر سید فضل اللہ مکرم کا صدارتی خطاب لاجواب رہا۔ 


ویڈیو کے لیے درج ذیل لنک نیلی پٹی پر کلک کیجیے

دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر امان اللہ اور ڈاکٹر شمس الدین ترورکاڈنے کی۔ اس نشست میں شیخ نازیہ(ڈاکٹر حلیمہ فردوس کی مضمون نگاری طنز و مزاح کے حوالے سے)، شیخ شیما(مجتبی حسین کی مضمون نگاری)، بی بی عالیہ(غیر افسانوی نثری اصناف ایک جائزہ)، عبد الرشید(مجتبی حسین کی سفرنامہ نگاری)، عبد الرزاق(وہاب عندلیب کی خاکہ نگاری گفتار و کردار کے حوالے سے)۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر سی فوزیہنے انجام دیے۔ 

تیسری نشست کی صدارت پروفیسر محمد نسیم الدین فریس اور پروفیسر قاسم علی خان نے کی جس میں سید فاطمہ بی(آپ بیتی)، ڈاکٹر ای محمد انور حسین(دنیا مرے آگے کی روشنی میں تقی عثمانی کی سفرنامہ نگاری)، ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری(کوئی بات اٹھا نہ رکھنا کی روشنی میں رفیعہ نوشین کی رپورتاژ نگاری)، ڈاکٹر محمد محبوب(مجتبیٰ حسین کی غیر افسانوٰ نثر)، سراج(سلیمان اطہر جاوید کی خاکہ نگاری)، ڈاکٹر نور اللہ(پروفیسر مختار الدین آرزو کی مکتوب نگاری)، ڈاکٹراطیع اللہ شاہد(ابن کنول بحیثیت سفرنامہ نگار) اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبیر باشا نے انجام دیے۔ 

چوتھی نشست کی صدارت ڈاکٹر نشاط احمد عمری اور ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری نے کی۔ اس نشست کے مقالہ نگاران‘ڈاکٹر ظہیر دانش عمری(مولانا حفیظ الرحمان اعظمی عمری مدنی کی سفرنامہ نگاری)، ستار فیضی کڈپوی(جنوبی ہند میں غیر افسانوی ادب اطفال بچوں کے رسائل کے حوالے سے)، افروز بیگم (صادقہ نواب سحر کی آپ بیتی)، محمد نذیر مہک (اکیسویں صدی میں مضمون نگاری اور درپیش مسائل)، ابوبکر صدیق قاسمی (شمس الرحمان فاروقی کی تنقید نگاری)، حافظ ابوطلحہ عمری (مسجدوں کا شہر-سفرنامہ قطر مولانا حفیظ الرحمان اعظمی عمری مدنی کا تجزیاتی مطالعہ)اور شیخ خالد سعید عمری مدنی (آندھرا پردیش کا منفرد سالنامہ ندائے دار البر اردو صحافت کے آئینے میں (تعارف وتجزیہ)۔ اس نشست میں نظامت کے فرائض ڈاکٹر شبیر باشا نے انجام دیے۔ 

دوسرے دن 28فروری کو اردو، انگریزی اور تلگو کے لیے متوازی نشستیں منعقد ہوئیں۔ ڈاکٹر شمس الدین ترورکاڈ اور امام باشا نے صدارت کی اور مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر بی بی عائشہ (ڈاکٹر راہی فدائی کی غیر افسانوی ادبی کاوشیں)، شیخ اکرام اللہ عمری (غیر افسانوی اصنافِ نثر کا عمومی جائزہ) اور دیگر اسکالرس اور طلبہ نے مقالے پیش کیے۔ متوازی نشستوں میں انگریزی اور تلگو میں بھی غیر افسانوی ادب پر گرانقدر مقالات پیش کیے گئے۔ 

وائس چانسلر پروفیسر گنگادھر راؤ نے اختتامی اجلاس کو خطاب کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا کو اسناد پیش کیں۔ شیخ ناگور ولی، امام باشا، حافظ ابوطلحہ عمری اور شیخ خالد سعید عمری مدنی کے علاوہ شیخ اکرام اللہ عمری کو اسناد تقسیم کیں۔ 










دوسرے دن پہلی نشست کی صدارت ڈاکٹر شمس الدین تروکاڈ اور لین امام بادشاہ نے کی اور اس نشست کے مقالہ نگاران میں شامل تھے انور حسین (افضل العلماء ڈاکٹر محمد عبدالحق بحیثیت جدید تعلیم کے موجد)، ڈاکٹر جی بی عائشہ (راہی فدائی کی تحقیق و تنقید نگاری)، ڈاکٹر شبیر بادشاہ (شہناز نبی کا سفر نامہ کشمیر جنت نظیر کا تجزیہ)، رحمت اللہ (اردو میں خاکہ نگاری) اور ڈاکٹر شہباز (اکیسویں صدی کے خودنوشت اور خودنوشت نگَار)

اختتامی اجلاس کی صدارت پروفیسر سریش کمارنے کی اور مہمان خصوصی کی حیثیت سے پروفیسر رتناشیلامنی نے شرکت کی۔ مہمان اعزای پروفیسر جی اوما مہیشور راؤ اور ڈاکٹر کوی کوٹیشورلو نے خطاب کیا۔ اختتامی نشست میں سامعین اور مقالہ نگاروں نے اپنے تاثرات پیش کیے۔ ڈاکٹر شہباز، ڈاکٹر فوزیہ اور ڈاکٹر شبیر باشا نے ہدیہ تشکر پیش کیا اور مقالہ نگاروں کو اسناد تقسیم کیں جس پر بحسن و خوبی اس شاندار یادگار کامیاب تاریخ ساز سیمینارکا اختتام عمل میں آیا۔



پروفیسر نسیم الدین فریس صاحب کا کلیدی خطبہ