صفحات

تمہیں اس انقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
تمہیں اس انقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

بدھ، 24 اپریل، 2013

تمہیں اس انقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ


تمہیں اس انقلابِ دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ 


میر اکبر حسین اکبرؔ الٰہ آبادی کا درجِ بالا مصرعہ ، جسے میں نے مضمون کا عنوان اور سرنامہ بنایا ہے ، بلاشبہ اکبرؔ الٰہ آبادی کی شاعری کا عنوان بھی ہے۔ جس عہد سے آپ کا تعلق تھا ، وہ انقلاباتِ زمانہ ، تہذیبی روایات کی شکست و ریخت ، قدیم و جدید کے تصادم و ٹکراؤ اور تمدنی و معاشرتی اقدار کی تبدیلی کا زمانہ تھا۔ 
اکبرؔ الٰہ آبادی نے اپنے پُر آشوب عہد کے متغیر حالات سے شدید تاثر قبول کیا تھا ۔ تہذیبی تصادم اور معاشرتی اقدار کی تبدیلی پر انہیں قلبی صدموں سے دوچار ہونا پڑا ۔ مگرانھوں نے ایک کامیاب فنکار اور عظیم شاعر کی حیثیت سے اپنے عہد کی تہذیبی کشمکش کو طنز و مزاح اور ظرافت و