صفحات

اتوار، 30 نومبر، 2025

امام الہند مولاناابوالکلام آزاد عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت

  امام الہند مولاناابوالکلام آزاد

عہد ساز و عہد آفرین‘عظیم عبقری شخصیت

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری‘ شعبۂ اردو، گورنمنٹ آرٹس کالج (خود مختار)‘ کڈپہ۔ آندھرا پردیش

        امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد (11 نومبر 1888 — 22 فروری 1958) ایک عظیم عبقری شخصیت کے حامل تھے۔ وہ ایک عظیم نابغہ عصر تھے، ایک بے بدل خطیب اور مایہ ناز ادیب تھے‘ جو اپنے اسلوب ِنگارش کے خود ہی موجد اور خاتم تھے۔ مولانا آزاد کے متنوع فضائل و کمالات اور گوناگوں خصائص و امتیازات میں یہ طے کرنا مشکل ہے کہ آپ کے منجملہ اوصافِ عالی میں کس وصف کو مابہ الامتیاز قرار دیا جائے۔ صاحب ترجمان القرآن بحیثیت مفسر قرآن، ماہرِ احادیث و روایات، دیدہ ور مؤرخ، کلامی مسائل و معقولات کے ماہر فلسفی و متکلم، تذکرہ و سوانح نگار، الہلال و البلاغ کے بے باک صحافی، سیاست کے نبّاض و سیّاس، دور اندیش مفکّر و مدبّر، خوش فکر شاعر، صاحب طرز ادیب، منفرد انشا پرداز، اردو میں انانیتی ادب کے سب سے بڑے علمبردار، مولانا آزاد ایسی ہشت پہل شخصیت کے کمالات کے بارے میں یہ تعین یقینا مشکل ہے کہ آپ کی جامع الکمالات شخصیت کے اوصاف و کمالات کا کونسا زاویہ اہم ہے اور کس پہلو سے زیادہ اہمیت کاحامل ہے۔
        جہاں تک ایک ادیب و انشاء پرداز کی حیثیت سے امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے مقام و مرتبہ کا تعین ہے، اردو تنقید متفق اللفظ ہے کہ اردو ادب میں مولانا آزاد کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ انھوں نے خود اپنا اسلوب ایجاد کیا۔ ان کا اسلوب صرف ان ہی سے خاص ہے۔ وہ ایک ایسے اسلوب کے موجد ہیں، جوخود ان پر ختم ہے۔ ان کے اسلوبِ نگارش پر محققین و ناقدین نے بطورِ خاص توجہ کی۔ اسلوب نگارش خود ایک وسیع الاطراف اور طویل الذیل موضوع ہے۔
         مولانا آزاد اپنی صحافتی تحریروں میں جہاں ایک جری، بے باک اور صاحب ِعزیمت قلمکار کی حیثیت سے جلوہ گر ہوتے ہیں، وہیں ان میں ایک ایسا دانشور، مفکرا ور مدبر بھی صاف نمودار ہوتا ہے‘ جس کی دور اندیش نظریں اقوام و ملل کی تاریخ کا تجزیہ کرتی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں میں غیرتِ ایمانی اور حمیت اسلامی کے احساسات و جذبات سے سرشار ایک ایسے مردِ مومن نظر آتے ہیں جن کے پیش نظر حزب اللہ کی ایسی تشکیل مقصود تھی‘ جو تعلیمات الٰہی کے مطابق ہو‘ تاکہ وہ عزیمت و عظمت کا ایسا مینار بنے‘ جس کے لیے غلبہ موعود اور تمکن فی الارض موجود ہے۔
         امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد‘ ایک عظیم مفکر و مدبر‘ دوراندیش دانشور اور ایک عظیم نابغۂ عصر تھے۔آزاد شناسی ایک طویل الذیل موضوع ہے جس کے بہت سے پہلو ہیں۔ مولانا آزاد کی شخصیت کے مطالعہ کے کئی زاویے ہیں۔ مولانا آزاد ایسی شخصیات‘ نابغہ عصر اور عبقرئ دہر ہوا کرتی ہیں اور ان کی فکر صدیوں پر محیط ہوا کرتی ہے۔ دین و دانش، علم و ادب، شعر و سخن، ادب و انشا کی مختلف سمتوں کے علاوہ فکر و نظر اور فلسفہ و نظریہ کے اعتبار سے بھی آزادیات اور ابوالکلامیات کے مباحث انتہائی غور و فکر اور خاص توجہ و التفات کے طالب ہیں۔ مولانا آزاد کی شخصیت اور فکر و نظر کے مختلف ابعاد اور جہات ہیں۔ بحیثیت مفسر قرآن‘ بحیثیت عالم دین‘ بحیثیت خطیب‘ بحیثیت نظریہ ساز‘ بحیثیت ادیب‘ بحیثیت شاعر‘ بحیثیت صحافی‘ بحیثیت انشا پرداز‘ بحیثیت مفکر‘ بحیثیت مدبر‘ بحیثیت متکلم‘ بحیثیت مؤرخ‘ بحیثیت مجاہد آزادی‘ بحیثیت تحریکِ آزادی کے سرخیل‘ بحیثیت علمبردار یکجہتی‘ بحیثیت منادِ متحدہ قومیت‘ بحیثیت صدر کانگریس‘ بحیثیت وزیر عبوری حکومت‘ بحیثیت اولین وزیر تعلیم حکومتِ ہند‘ ہندوستانی نظامِ تعلیم کے معمار.....اور فی الواقع‘ مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات و خدمات کا ہر ایک پہلو ایک طویل الذیل پہلو رکھتا ہے۔
        مولانا آزاد‘ 1939میں آل انڈیا کانگریس کے قائم مقام صدر بنائے گئے۔ 1940میں آل انڈیا کانگریس کے باضابطہ صدر منتخب ہوئے اور آزادی سے عین قبل تک وہی صدر کانگریس رہے۔ انھوں نے 1947میں آزادی کے بعد مرکزی حکومت کی اولین کابینہ کے رکن اور ملک کے اولین وزیر تعلیم کی حیثیت سے 15 اگست کو حلف لیا۔ 1952 میں مولانا آزاد‘ تعلیم‘ قدرتی ذرائع اور سائنسی تحقیقات کے وزیر بنے۔ 1957 میں دوسری مرتبہ وزیر تعلیم بنائے گئے اور وہ اس منصب پر تاحیات فائز رہے۔ گویا ان کی مدت وزارت‘ 15 اگست 1947 سے 22 فروری 1958 تک رہی۔
        مولانا آزاد نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے ملک کو ایک عمدہ تعلیمی نظام عطا کیا۔ انھوں نے یو جی سی (یونیورسٹی گرانٹس کمیشن) قائم کیا۔ صنعت و حرفت کے لیے اعلیٰ تعلیمی ادارے قائم کیے‘ جن میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس‘ سینٹرل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن‘ انڈین کونسل فارایگر یکلچرل اینڈ سائنٹیفک ریسرچ‘ انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز‘ ساہتیہ اکیڈمی‘ للت کلا اکیڈمی‘ سنگیت ناٹک اکیڈمی‘ نیشنل آرکائیوز‘ نیشنل میوزیم اور مرکزی تجربہ گاہیں شامل ہیں۔ وزیر تعلیم کی حیثیت سے تعلیم کے لیے سینٹرل ایڈوائزری بورڈوغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ مولانا آزاد کے بعد‘ ملک کی جو تعلیمی ترقی ہوئی‘ اور ملک کے لیے جن تعلیمی پالیسیوں کو تیار کیا گیا‘ ان پر بھی مولانا آزاد کی بصیرت‘ اور ان کے تعلیمی افکار و نظریات کے اثرات صاف محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
        مولانا آزادکے مختلف پہلوؤں میں‘ وزارت تعلیم کی مدت کار اور بحیثیت وزیر تعلیم ان کی مختلف النوع گرانقدر خدمات اور دوراندیشی کے حامل اقدامات‘ ناقابلِ فراموش ہیں۔ مولانا آزاد کی حیات کے آخری گیارہ سال‘ آزادئ ہند کے بعد سے 1958 تک ملک کے تعلیمی معیار میں اضافہ کرنے‘ تعلیمی نظام کے سمت و رفتار متعین کرنے‘ تعلیمی مقاصد و اہداف کے تعین اور اس منصوبہ بندی کے مطابق حصولیابی کے لیے نظم وانتظام اور اہتمام و انصرام کرنے سے عبارت ہیں۔ مولانا آزاد کے افکار و نظریات‘ ان کے تعلیمی مقاصد و تصورات اور دانش و بینش نے ملک کے تعلیمی نظام کے لیے کلیدی اور بنیادی کردار ادا کیا۔ آج بھی مولانا آزاد کی تعلیمی پالیسی اور ان کے افکار کی معنویت برقرار ہے۔ ہندوستان کا تعلیمی نظام‘ قانونِ حقِ تعلیم اور تعلیمی اصلاحات‘ نیز ان کے قائم کردہ شاندار ادارے‘ ہمیشہ انھیں خراجِ عقیدت پیش کرتے رہیں گے۔ مولانا آزاد کی تعلیمی بصیرت‘ فکر و نظر اور دوراندیشی و دانش مندی اور ان کی خدمات جلیلہ کے روشن نقوش‘ ان کی عظیم الشان خدمات اوران کے تعلیمی افکار و نظریات‘ اقدار اور تصورات اور جدید ہندوستان کی تعمیر کے لیے ہمہ جہت تعلیمی خدمات کے روشن و تابندہ نقشِ قدم‘ نشانِ راہ بن کر مستقبل میں بھی رہبری و رہنمائی کرتے رہیں گے۔
        امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت‘ ایک عظیم انقلابی شخصیت ہے۔ ان کی تحریریں‘ دین و ادب کا شاندار امتزاج ہیں۔ ان کی تحریروں میں جہاں علم و ادب موجزن ہے‘ وہیں آپ کی تقاریر بھی ادبِ عالیہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ بلاشبہ‘ مولانا آزاد کی تقریروں اور ان کے انقلابی خطبات نے ہندوستان کی تاریخ میں اپنی اہمیت درج کروائی ہے۔ مولانا آزاد کے خطابات کا یہ عالم ہوتا تھا کہ ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع ساکت و صامت ہو کر بغور سننے پر مجبور ہو جایا کرتا تھا۔ ان کے روزِ بیان اور قادر الکلامی کے واقعات مشہور ہیں۔ ان کی خطیبانہ شان کا یہ عالم تھا کہ ان کی وہ تقاریر و خطبات‘ آج بھی اپنے خطیبانہ جوش اور روبط و تسلسل اور اپنی اثر آفرینی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کے خطبات شدتِ وفورِ جذبات کے آئینہ دار ہیں۔ ان کے خطبات میں‘ ان کی علمیت و ادبیت کا مظاہرہ پورے کمال کے ساتھ ملتا ہے۔ ان کے افکار و خیالات‘ پوری صفائی کے ساتھ آپ کے خطبات‘ خطیبانہ شان اور علمی و ادبی رنگ اور استدلالی طرزِ کلام کا پیکر ہیں۔ آج بھی جب ’خطباتِ آزاد‘ کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو مولانا آزاد کے افکار و خیالات‘ اپنی پوری آب و تاب اور معقولیت و زورِ استدلال کے ساتھ ہمارے سامنے آ جاتے ہیں۔
       ’غبار خاطر‘ میں مرصع کاری‘ رنگینی اور آراستگی کے اعلیٰ نمونے ملتے ہیں۔ لفظی رعایتیں اور مناسبات‘ جملوں کی متوازن ترکیب‘ ترتیب کے بدلے ہوئے پیرائے‘ نت نئے تلازمات اور نادر ہ کار ترکیبات’ غبار خاطر‘ کی دلآویزی اور دلکشی میں بے پناہ اضافہ کرتے ہیں اور قاری‘ مولانا آزاد کی تحریروں کے طلسم میں قید ہوکر رہ جاتا ہے۔ اردو ادب میں کوئی کتاب ’’غبارِ خاطر‘‘ کا جواب نہیں پیش کرسکتی۔ آپ نے اپنے زورِ قلم سے انشا پردازی کے بے مثل جواہر پاروں کو اپنے خطوط کی زینت بنایا ہے۔ ’غبارِ خاطر‘ مولانا آزاد کا ایک ادبی شاہکار ہے۔ قلعۂ احمد نگر کے واقعات و مشاہدات اور مولانا آزاد کے مختلف موضوعات پر پیش کردہ افکار و خیالات‘ اپنی انفرادیت‘ اسلوب کی دلکشی اور طرزِ نگارش کی جاذبیت کے باعث ”غبارِ خاطر“ ناقدانِ ادب کو ہمیشہ اپنی جانب متوجہ کرتی رہی ہے۔ ایامِ اسارت میں‘ نظر بندی کے دوران‘ قیدو بند کی صعوبتوں کے باوجود‘ ایک جگہ ’غبارِ خاطر‘ میں مثبت سوچ اور ایجابی فکر کے ساتھ پرامید اور حوصلہ مندی کے ساتھ کیا خوب لکھتے ہیں کہ: ”……جس قید خانے میں صبح ہر روز مسکراتی ہو‘ جہاں شام ہر روز پردۂ شب میں چھپ جاتی ہو‘ جس کی راتیں کبھی ستاروں کی قندیلوں سے جگمگانے لگتی ہوں‘ کبھی چاندنی کی حسن افروزیوں سے جہاں تاب رہتی ہو‘ جہاں دوپہر ہر روز چمکے‘ شفق ہر روز نکھرے‘ پرند ہر صبح و شام چہکیں‘ اسے قید خانہ ہونے پر بھی عیش و عشرت کے سامانوں سے خالی کیوں سمجھ لیا جائے؟۔“
غبارِ خاطر کے خطوط کا اسلوب اور طرز بیان‘ انتہائی دلکش اور دلآویز ہے۔ غبار خاطرکی نثر میں وہی تاثیر و تاثرکی کیفیت ہے‘ جو عام طور پر شاعری کے ساتھ مخصوص ہے۔ غبار خاطر کے بعض نثر پارے قاری کو ایک مخصوص جمالیاتی تجربہ کا احساس دلاتے ہیں۔ حکایت زاغ و بلبل کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو: ”زمستان کی برف باری اور پت جھڑ کے بعد‘ جب موسم کا رخ پلٹنے لگتا ہے اور بہار اپنی ساری رعنائیوں اور جلوہ فروشیوں کے ساتھ باغ و صحرا پر چھاجاتی ہے تو اس وقت برف کی بے رحمیوں سے ٹھٹھری ہوئی دنیا یکایک محسوس کرنے لگتی ہے کہ اب موت کی افسردگیوں کی جگہ زندگی کی سرگرمیوں کی ایک نئی دنیا نمودار ہوگئی۔ انسان اپنے جسم کے اندر دیکھتا ہے تو زندگی کا تازہ خون ایک ایک رگ کے اندر ابلتا دکھائی دیتا ہے۔ اپنے سے باہر دیکھتا ہے تو فضا کا ایک ایک ذرّہ عیش و نشاط ہستی کی سرمستیوں میں رقص کرتا نظر آتا ہے۔ آسمان و زمین کی ہر چیز جو کل تک محرومیوں کی سواری اور افسردگیوں کی جان کاہی تھی‘ آج آنکھ کھولیے تو حسن کی عشوہ طرازی ہے‘ کان لگائیے تو نغمہ کی جاں نوازی ہے‘ سونگھئے تو سرتا سر بو کی عطر بیزی ہے۔“
         امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی مختلف الجہات اور متنوع الابعاد‘ ہمہ جہت‘ ہشت پہل شخصیت کے بارے میں‘ اپنی تمہید میں‘ میں نے تفصیل سے عرض کیا ہے کہ کئی پہلو اور کئی زاویے ایسے ہیں‘ جن سے مولانا آزاد کی خدمات اور ان کی شخصیت کے فکری ابعاد کے مختلف پہلوؤں سے مطالعہ کیا جا سکتا ہے۔ فی الواقع‘ علم و ادب کے وابستگان کا یہ احساس کسی قدر مبنی بر حقیقت ہے کہ مولانا آزاد کی تحریک ِ آزادئ ہند کی عملی سیاسی جدو جہد جس میں وہ ایک متحرک‘ دوراندیش قائد کی حیثیت سے مسلسل اجلاس‘ اسفار‘ اسارت اور قید وبند کی وجہ سے ان کے شاندار علمی کاموں میں مسلسل حرج ہوتا رہا‘ گویا حالات کا جبر‘ ان کے علمی و ادبی مشاغل میں خلل انداز ہوتا رہا۔ بے شمار علمی منصوبے تشنۂ اشاعت رہ گئے۔ بارہا ان کے وقیع علمی و قلمی سرمایہ کو تلف کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ ترجمان القرآن کے مسودات بھی کئی بار نذرِ آتش کر دیے گئے۔ ایسے کئی علمی و تحقیقی منصوبے تشنۂ تکمیل رہ گئے‘ جو مولانا آزاد کے خلاق ذہن اور ان کی مدتوں پر مشتمل غور و فکر اور فکر و نظر کے شاہکار تھے۔ مولانا آزاد کی نگارشات‘ جو معجزۂ قلم کی نمود ہیں‘ ان سے جب سیرابی نہیں ہوتی تو اہلِ علم و فضل کس طرح شکوہ کناں ہوتے ہیں‘ اس کی ایک مثال میرے استاذِ محترم حضرت مولانا حافظ حفیظ الرحمن اعظمی عمری مدنی‘ سابق ناظم‘ جامعہ دارالسلام‘ عمرآباد‘ جو مولانا آزاد کی عبقریت سے کماحقہٗ واقف و آگاہ‘ ان کی علمیت اور ادبیت کے قدردان‘ ان کے اسلوب ِ نگارش کے دلدادہ‘ ان کے علمی و ادبی کمالات کے معترف تھے‘ اپنے مقالہ بعنوان: ”امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی علمی جلالت اور شانِ عزیمت“ میں ایک لکھتے ہیں: ”مولانا کی وقیع نگارشات کا مطالعہ کرتے ہوئے اکثر ذہن میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ کاش آپ کی پوری حیات گرانمایہ علوم وفنون کے لیے وقف ہوتی۔ اگر ایساہوتا تو علم وفن کے کیسے کیسے انمول موتی اور جواہرپارے آج دنیا کی آنکھوں کی چکا چوند کرہے ہوتے، عرصۂ تحقیق میں ہلچل مچ جاتی، میدان انشا وادب میں لعل وگہر کی دکانیں سجتیں، شعر وسخن کی نئی بستیاں آباد ہوتیں، فکر ونظر کے چراغ جلتے، حکمت ودانائی کے گہر رُلتے، فصاحت و بلاغت کے غنچے کھلتے اور معانی و معارف کے کتنے ہی دفتر کھلتے۔“
         اسی طرح‘ آزادیات اور ابوالکلامیات‘ کے ایک ممتاز ماہر‘ مولانا محمد شعیب عمری بنگلوری قابلِ ذکر ہیں جنھوں نے مولانا آزاد پر نہایت وقیع علمی کام کیا ہے۔ انھوں نے "مولانا آزاد کی دینی زندگی" پر ایک دستاویزی کتاب بھی لکھی ہے۔ انھوں نے ایک گرانقدر محققانہ مقالہ لکھا ہے‘ جو امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کے تبحرِحدیث کے موضوع پر ہے۔ صحیفہ‘ عمرآباد میں مطبوعہ ان کے اس مقالے کے اختتامی حصے سے ایک اہم ترین اقتباس پر اس مقالہ کو ختم کر رہا ہوں‘ جس میں مولانا محمد شعیب عمری نے مولانا آزاد کی علمی اور مذہبی تحریروں کی سات خصوصیات کو خصوصیات کو عمدگی کے ساتھ اجاگر کرتے ہوئے کیا خوب لکھا ہے:
”٭قرآن وحدیث کے انوار وتجلیات سے روشن ہو کر رعنائی بوقلموں کے ساتھ نظر افروز اور بصیرت فرما ہوتی ہیں۔
٭ان میں علوم ومعارف کے کنوز‘حقائق ودقائق کے خزائن دفن ہیں‘ تو حکمت و موعظت کی کائنات بھی بسی ہوتی ہے۔
٭ان میں محبت ِ خالق اور عشقِ رسول کی طلائی ونقرئی جدولیں بھی نہایت ایمان افروز قوت کے ساتھ رواں دواں ہوتی ہیں۔
٭لفظ لفظ میں کمالِ اخلاص کی نمود ہوتی ہے تو جمالِ تقویٰ کا ظہور بدرجہئ تمام جلوہ بیز ہوتا ہے۔
٭رقت‘ خشیت الٰہی اور سوز وگداز‘ سوادِ حروف کے اندر‘ اس انداز سے حلول کر گیا ہے کہ پڑھتے وقت محسوس ہوتا ہے‘ مولانا نے اپنے دل کی قاشیں اور جگر کے ٹکڑے پیوست ِعبارت کر دیے ہیں۔
٭ایک ایک فقرے‘ ایک ایک جملے اور ایک ایک سطر میں اعجاز اور اثر‘ ایسا سرایت کرگیا ہے‘ جیسے روحِ نکہت پھول کی حسین پنکھڑیوں میں جذب ہوگئی ہے۔
٭لیکن ادب و انشا کے چمنستانِ ہزار رنگ میں ان کے گوہر نگار قلم نے ایسے وجدآفریں انداز میں گہر افشانی کی ہے کہ نکتہ سنجانِ علم وادب جھوم جھوم اٹھتے ہیں اور یہ محسوس کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ مولانا کی تحریر کا ایک ایک لفظ گلاب کی طرح شاداب‘ پھول کی طرح عطر بیز‘ اور سورج کی طرح روشن اور چمک دار ہے۔ استعارات‘ تشبیہات اور تمثیلات کی دل فریبیوں اور حسن افروزیوں کے ساتھ مطالب و مفاہیم کی لطافت و حلاوت کا بھی ایسا دل آویز اختلاط ہے‘ جیسے قوس قزح کے رنگ باہم دگر بغل گیر ہوگئے ہیں۔“ (یادگاری مجلہ صحیفہ‘ عمرآباد 1977، ص: 72اور 73)۔
(گیارہ نومبر 2025 کے اخبارات کے تراشے منسلک ہیں۔)
ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری










1 تبصرہ: