صفحات

بدھ، 7 اگست، 2019

سید نصر اللہ بختیاری کا وائیوا

بڑی خوشی و مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دیتے ہوئے فرحت و انبساط محسوس کر رہا ہوں کہ  اللَّه رب العزت کے فضل و کرم سے آج بتاريخ 7/ اگست 2019ء، بروز بدھ، برادرِ عزیز القدر سید نصر اللہ بختیاری سلّمہ الباری کے انگریزی ادب میں پی. ایچ. ڈی کا وائیوا منعقد ہوا-
وائیوا کے ممتحن ڈاکٹر وی. پی. انور سادات صاحب تھے جب کہ ان کے تحقيقی مقالے کے نگران کار جناب ڈاکٹر ایم. فاروق صاحب، صدرِ شعبۂ انگریزی، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم، تامل ناڈو رہے-
جناب سید نصر اللہ بختیاری کے انگریزی ادب میں تحقيقی مقالے کا عنوان ہے:
"مملکت، مذہب اور مصوری: اورحان پامُک کے منتخب ناولوں کا مطالعہ"
The State, Religion and Art: A Study of the Select Novels of Orhan Pamuk
عالی جناب ایس. ضیاء الدین صاحب (جنرل سیکرٹری، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، میل وشارم) جناب. کے. انیس احمد (کرسپانڈنٹ، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی)، پرنسپل ڈاکٹر ایس. اے. ساجد صاحب، ڈاکٹر محمد یاسر(شعبۂ اردو)، ڈاکٹر تمیم منصور(شعبۂ تامل)، ڈاکٹر وصی بختیاری، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم کے پروفیسرز، لیکچرارز، ریسرچ اسکالرز، شعبۂ انگریزی دی نیو کالج چینائی کے پروفیسرز، دیگر کالجوں کے لیکچرارز کے علاوہ اہلِ خانہ، اعزہ و أقارب وائیوا میں شریک رہے-
ڈاکٹر ایم. فاروق نے کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری ایک پرفیکٹ محقق ہیں، انہوں نے موضوع کے ساتھ کما حقہ انصاف کیا ہے- ان کے تحقيقی مقالے پر نیشنل اور انٹرنیشنل ممتحنوں کی آراء بہت شاندار رہیں اور مقالہ کی ستائش کی گئی ہے-
ترکی کے ناول نگار اورحان پامُک نے ترکی کے تاریخی پس منظر میں اپنی ناولوں میں ملک ترکی، مذہب اور آرٹ کے ضمن میں اسلامی طبقات اور تجدد پسندوں کے درمیان طبقاتی کشمکش کو اجاگر کیا ہے-
سامعین کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ کی گئی-  تقریباً پندرہ شرکاء نے سوالات پوچھے- سوالات میں ترکی کا ماضی، ترکی میں مشرقیت و مغربیت کا مقابلہ، استنبول — ایک شہر کی یادداشت، سنو (جہاں برف گرتی ہے)، سرخ میرا نام اور دیگر ناولوں کے حوالے سے پوچھے گئے-
ڈاکٹر انور سادات نے تقریباً دس سوالات کئے- انہوں نے قسطنطنیہ، خلافتِ عثمانیہ، مغربیت اور اسلامیت کے تصادم وغیرہ پر سوالات اٹھائے گئے- ممتحن نے ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ اورحان پامک نے اپنے ناولوں میں اپنے ملک ترکی کے ماضی کو روشن اور شاندار بنا کر پیش کیا ہے یا اس پر منفی رویہ کا اظہار کیا ہے؟ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا پامک مغرب پسند ہیں اور انہوں نے مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنے ملک کے ماضی کو پیش کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اورحان پامک کے ناولوں میں استعارے، تشبیہات، علامات، تاریخی کردار، فرضی کردار کے علاوہ تصوف کی علامات، مذہبی اشارات اور اساطیر وغیرہ کی بہتات ہے- جس کی وجہ سے پامک کا مطالعہ آسان نہیں ہے-
سوالات جوابات کے بعد ڈاکٹر انور سادات نے حتمی طور پر کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری نے اپنے موضوع کا بھرپور حق ادا کیا ہے- انہوں نے بہترین مقالہ تحریر کیا ہے- میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں- انہوں نے کہا کہ میں جناب سید نصر اللہ بختیاری کے مقالے اور سوالات کے عمدہ جوابات سے اپنے اطمینانِ کلی کا اظہار کرتا ہوں اور انہیں پی. ایچ. ڈی. کی ڈگری کا مستحق قرار دیتا ہوں کہ ترولّور یونیورسٹی انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ کرے- میں انہیں ڈاکٹر سید نصر اللہ بختیاری قرار دے رہا ہوں-
ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر ایس. محمد یاسر، نیو کالج اور دیگر کالجوں کے اساتذہ نے نصر اللہ بختیاری کو مبارکباد پیش کی- مقالہ نگار نے تمام شرکاء اور متعلقین کا شکریہ ادا کیا، اس طرح تین گھنٹوں پر مشتمل اس وائیوا کا اختتام عمل میں آیا- بعد ازاں شعبۂ اردو میں پُر تکلف ظہرانہ کا انتظام کیا گیا-
الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.
___وصی بختیاری،
میل وشارم، 7 اگست، 2019ء.
...

جمعرات، 23 نومبر، 2017

ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر

ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر 


رپورٹ : ڈاکٹر وصی بختیاری عمری، رائے چوٹی
vasibakhtiary@gmail.com 

آج 23 نومبر 2017ء کو ڈاکٹر شاہدہ اختر صاحبہ نے کرنول میں ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی میں بحیثیت رجسٹرار جائزہ حاصل کیا۔ وہ اردو یونیورسٹی میں سابق رجسٹرار پروفیسر ستار ساحر کی جگہ لے رہی ہیں، جن کی معیاد 23 اگست 2017ء کو ختم ہو گئی تھی۔
وائس چانسلر پروفیسر مظفر علی شہہ میری نے رجسٹرار صاحبہ کا یونیورسٹی میں استقبال کیا۔ انہیں یونیورسٹی میں رجسٹرار کے عہدے پر تقرر نامہ عطا کیا۔ تدریسی و غیر تدریسی عملہ نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ 
ڈاکٹر شاہدہ اختر صاحبہ کا تعلق علاقہ آندھرا پردیش کے گنٹور سے ہے۔تدریسی میدان میں ان کا تعلق شعبہ کمپیوٹر سائنس سے ہے۔ وہ صدرشعبہ کمیوٹر سائنس کی حیثیت سے خودمختار زنانہ کالج، گورنمنٹ کالج فار ویمن اٹانامس، گنٹور میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ انہوں نے آچاریہ ناگرجنا یونیورسٹی ، گنٹور سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی۔ انہوں نے برلا انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس ، پلانی سے سافٹ ویئر سسٹم میں ایم ایس کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ انہیں تقریباً بیس سالہ تدریسی و انتظامی تجربہ حاصل ہے۔ وہ آچاریہ ناگرجنا یونیورسٹی ، گنٹور کی ایگزیکیٹیو کاؤنسل کی رکن بھی ہیں۔ 
ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول ، ایک ریاستی جامعہ ہے۔ مقننہ آندھرا پردیش کی جانب سے قائم شدہ اس یونیورسٹی کاسنگ بنیاد آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ جناب نارا چندرا بابو نائیڈو نے 9 نومبر 2015ء کورکھا تھا۔
17؍ اگست 2016ء سے باقاعدہ کلاسس کا آغاز ہوا۔ اس نو زائیدہ یونیورسٹی کی کارکردگی اور اس کی کلاسس ایک سال تک عثمانیہ کالج کرنول کی عمارت میں ہوئیں۔ فی الحال یونیورسٹی ‘ ایک کشادہ عارضی عمارت میں چل رہی ہے۔حکومت کی جانب سے کرنول کے نواح میں بمقام ’ اورواکل ‘ 144 ایکڑ اراضی اردو یونیورسٹی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس یونیورسٹی میں اس وقت آٹھ کورسز چل رہے ہیں۔ چار پی جی کے کورسز اور چار انڈر گریجویٹ آنرز کے کورسز۔ایم اے اردو، ایم اے انگریزی، ایم اے معاشیات اور ایم کام کے علاوہ بی اے اردو ، بی اے اکنامکس اور بی کام و بی ایس سی کے کورسس چلا ئے جا رہے ہیں۔ 
یقین ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے چند پروفیشنل کورسز کے علاوہ انٹگریٹیڈ ایم ایس سی وغیرہ کئی کورسز شروع کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مظفر علی شہہ میری یونیورسٹی کو ایک اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا مرکز بنانے کے لیے پُر عزم ہیں۔

(ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری ، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبۂ اردو ، گورنمنٹ ڈگری کالج، رائے چوٹی، ضلع کڈپہ ، آندھرا پردیش۔ )
vasibakhtiary@gmail.com
9441905026

-- 





جمعہ، 10 نومبر، 2017

مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری کا انتقال پُر ملال

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری رحمه اللّه — مدیرِ ماہنامہ راہِ اعتدال و ڈائرکٹر ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، جامعہ دار السلام عمرآباد... آج بتاریخ 10 نومبر 2017ء کی صبح اولین ساعتوں میں انتقال کر گئے-
إنا لله وإنا إليه راجعون.
اللهم اغفر له و ارحمه و أدخله فصیح جناتك.

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

مانو کا سیمینار ’’عہدِ آصف جاہی کی ثقافتی اور ادبی روایات اور عصری معنویت‘‘


مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان: ’’عہدِ آصف جاہی کی ثقافتی اور ادبی روایات اور عصری معنویت‘‘ 10 اور 11 اکتوبر 2017 کو منعقد ہوا تھا۔ 
اس سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر اسلم پرویزصاحب، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے فرمائی تھی۔ 
مہمانانِ خصوصی/ اعزازی میں پروفیسر جی. گوپال ریڈی (ممبر، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن)، پروفیسر بی. شیخ علی (سابق وائس چانسلر، منگلور و گوا یونیورسٹی)، پروفیسر مظفر علی شہہ میری (وائس چانسلر، ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی، کرنول)، علامہ اعجاز فرخ (ماہرِ دکنیات، حیدرآباد) شامل تھے۔ اس اجلاس میں پروفیسر آذر می دخت صفوی (ڈائرکٹر، پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور حضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب نے خصوصی خطاب فرمایا۔ 
سیمینار کے ڈائرکٹر پروفیسر نسیم الدین فریس، ڈائرکٹر ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن، مانو نے خطبہ استقابالیہ پیش کیا اور سیمینار کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، جوائنٹ ڈائرکٹر مرکز برائے مطالعاتِ دکن نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔
افتتاحی اجلاس کے ویڈیو کو آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انسٹرکشنل میڈیا سینٹر نے یو ٹیوب پر پیش کیا ہے۔ شکریہ 
کے ساتھ اشتراک کر رہا ہوں۔
 اس ویڈیو میں حضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب کی تقریر ایک گھنٹہ چھ منٹ کے بعد شروع ہوتی ہے: تقریباً ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت پر ویڈیو محیط ہے- علامہ صاحب قبلہ کو 1.06.50 پر ملاحظہ فرمائیں؛


منگل، 24 اکتوبر، 2017


علامہ اعجاز فرخ صاحب کا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے  لکھنؤ کیمپس میں توسیعی خطبہ 

لکھنؤ 24،اکتوبر 2017۔

لکھنؤ کی تہذیبی خوب صورتی پوری دنیا میں ممتاز ہے ۔علامہ اعجاز فرخ 


مانو لکھنؤ کیمپس میں علامہ اعجاز فرخ کا توسیعی خطبہ ،کہا کہ میں یہاں مستقبل

کے 
ہندستان کو دیکھنے آیا ہوں 

ڈاکٹر عمیر منظر صاحب کی رپورٹ 

نادر شاہ کے حملے کے بعد دلی اجڑ گئی تھی لیکن لکھنؤ آباد ہونے لگا تھا۔یہاں کی تہذیبی خوب صورتی پوری د نیا میں ممتاز ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ وہ لکھنؤ آج مجھے نظر نہیں آرہا ہے مگر میں نے اس کے باطن میں جھاکنے کی کوشش کی ہے۔ رومی دروازہ ، بڑا امام باڑہ اور اس طرز کی جو عمارتیں ہیں ان کو دیکھئے اور ان کے نقش و نگار کو دیکھئے۔ صرف انسان ہی کہانی نہیں سناتے بلکہ دیواریں بھی کہانی سناتی ہیں۔ان خیالات کا اظہار ممتاز مورخ اور خطیب علامہ اعجاز فرخ نے یہاں مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں ’اودھ کی ثقافت اور ادب کے موضوع پر توسیعی خطبہ کے دوران کیا۔انہوں نے کہا کہ میں لکھنؤ کیمپس میں مستقبل کے ہندوستان کو دیکھنے آیا ہوں ۔ میں طلبہ میں اپنا ماضی اور مستقبل دیکھتا ہوں اور یہی کشش مجھے یہاں کھینچ کر لائی ہے۔ 
کیمپس کے انچارج ڈاکٹر عبدالقدوس نے خیر مقدم کیا۔ ڈاکٹر عشرت ناہید نے نظامت اور تعارف کا فریضہ انجام دیا۔ کیمپس کے طالب علم محمود الحسن نے قرآن پاک کی تلاوت کی۔ ڈاکٹر عبدالقدوس نے خیر مقدمی کلمات میں آج کے دن کو ایک تاریخی موقع قرار دیا اور کہا کہ علامہ کی آمد اور خطاب سے ہمارے طلبہ کو بہت کچھ سیکھنے اور جاننے کا موقع ملے گا۔ انہوں یہ بھی کہا کہ تاریخ کے ایک سنہرے دور کو آج ہم علامہ اعجاز فرخ کے الفاظ میں دیکھنے کی کوشش کریں گے ۔
علامہ اعجاز فرخ نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یوں تو حیدر آباد اور دلی بھی ایک تہذیبی شہر ہیں مگر نزاکت اور کیفیت کی شان جو لکھنؤ سے عبارت ہے وہ اور کہیں نہیں۔ انہوں نے اس موقع سے لکھنؤ کی تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اس انداز سے پیش کیا کہ سننے والوں کے سامنے وہ چیزیں ایک متحرک پیکر کی صورت میں دکھائی دینے لگیں۔ انہوں نے اس بات کا خاص طورپر ذکر کیا کہ لکھنؤ نے بہت سی تہذیبوں کو پروان چڑھایا۔اس تناظر میں شاید یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ہندوستان بالخصوص لکھنؤ اپنی تہذیبی خوبصورتی کی وجہ سے ہی پوری دنیا میں ممتاز ہے۔
علامہ اعجاز فر خ نے کہا کہ لکھنؤ میں پاندان کو تہذیبی علامت حاصل تھی بیگمات کے خرچ کا اندازہ ان کے پاندان سے کیاجاتا تھا۔یہاں کبھی سائل کو خالی ہاتھ نہیں جانے دیتے تھے اور سائل بھی ایسے تھے جو ہر دروازے پر صدا نہیں لگاتے تھے۔ یہاں کے لوگ غریبوں اور کمزور لوگوں کی مدد اور تعاون کر کے اپنے ہاتھ اور پاؤں کی زکاۃ نکالا کرتے تھے انہوں نے کہا کہ اس وقت کا لکھنؤ آج کے لکھنؤ کی طرح روشنی کا جنگل نہیں تھا مگر پھر بھی چہرے صاف دکھائی دے رہے تھے یعنی روشنی انسان کے اندر ہوتی ہے۔ انہوں نے چوک اور حضرت گنج کا ذکر کرتے ہوئے لکھنؤ کی شادیوں کی مختلف رسموں کا ذکر کیا ۔
علامہ اعجاز فرخ نے پان کھانے ، دلہن کی حنا بندی اورشادی کی دیگر رسوم کے ساتھ ساتھ لکھنؤ کے بانکوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ لکھنؤ میں کباب کے بغیر کھانے کا کوئی تصور نہیں تھا ۔ 30 ، 32 ورق کے پراٹھے ہوا کرتے تھے ۔ اس شہر میں پہلے بریانی نہیں تھی بلکہ پلاؤ ہوا کرتے تھے۔ انہوں نے کہا ان تمام تر تہذیبی اور ثقافتی رویوں میں لکھنؤ کی سب سے بڑی عظمت یہ تھی کہ اس نے کبھی کسی کو برا نہیں کہا۔اب آج ان چیزوں کو میں تلاش کرتا ہوں تو کوئی چیز مجھے نظر نہیں آتی۔ علامہ اعجاز فرخ نے گومتی ندی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کسی زمانے میں اس ندی کی لہروں میں موتیوں کی آب و تاب تھی مگر اب دیکھتا ہوں تو لگتاہے کہ یہ اپنے گناہوں کی چادر اوڑھ کر سیاہ پوش ہو گئی ہے۔ 
انہوں نے کہا کہ اس شہر نے میرؔ کی پروش ہی نہیں کی ہے بلکہ ایک پورے ادبی رویے کو فروغ اور استحکام عطا کیا ہے۔انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیاکہ ملک پر انگریزوں کے قبضہ کے بعد تاریخ کو بیان کرنے میں روای مخلص نہیں رہے اور اسی وجہ سے ایسی بہت سی باتیں ہماری تہذیب کا حصہ بنا دی گئیں جن کا کہ وجود ہی نہیں تھا ۔

پیر، 9 اکتوبر، 2017

Govt. Degree College, Rayachoty

گورنمنٹ ڈگری کالج، رائے چوٹی

گورنمنٹ ڈگری کالج رائے چوٹی، ضلع کڈپہ کا لوگو

GOVT. DEGREE COLLEGE, RAYACHOTY LOGO

GOVT. DEGREE COLLEGE, RAYACHOTY LOGO

GDC RCT LOGO

LOGO OF Govt. Degree College, Rayachoty, Rayachoti
LOGO of Govt. Degree College, Ryachoty

منگل، 26 ستمبر، 2017

"اردو یونیورسٹی اور اہلِ کرنول کا قابلِ مذمت رویہ"

"اردو یونیورسٹی اور اہلِ کرنول کا قابلِ مذمت رویہ"
آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی، کرنول کو ایک اہم علمی شخصیت ڈاکٹر أفضل العلماء عبد الحق کے نام سے موسوم کیا گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ خود ان کے افرادِ خاندان نے حکومت درخواست کی تھی-
اب کرنول کے لوگوں کا ایسا رویہ ہے اور اسی پر ان کی سوچ کی دھارا آگے بڑھ رہی ہے کہ اردو یونیورسٹی صرف کرنول کے لیے قائم کی گئی ہے- یونیورسٹی پورے آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے بنائی گئی ہے- اردو یونیورسٹی میں پورے آندھرا پردیش سے لوگ کام کرنے کے لیے، پڑھنے کے لیے اور انتظامی امور کو انجام دینے کے لیے منتخب کئے جائیں گے- بلکہ میں تو اس کا روادار ہوں کہ پورے ہندوستان کے افراد بھی بلا کسی جغرافیائی تفریق کے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں- صوبہ آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے بیرونی ریاستوں کے قابل افراد کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں-
پچھلے چند دنوں سے بعض گوشوں کی جانب سے یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ اردو یونیورسٹی صرف کرنول کے افراد کے لیے ہے- مقامی افراد کو ملازمتوں میں نمائندگی نہ دیئے جانے کی شکایات کی جا رہی ہیں- جب کہ تقررات صرف عارضی طور پر جزو وقتی تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے لیے ہوئے ہیں-
دفتری عملہ صد فیصد 💯 % کرنول کے مقامی افراد پر مشتمل ہے اور تدریسی عملہ میں اسی فیصد 80% لوگ ضلع کرنول سے تعلق رکھنے والے ہیں- صرف ایک ایک فرد نیلور، اننت پور  کی نمائندگی کر رہا ہے-
اب جن لوگوں نے اردو یونیورسٹی کے خلاف یہ محاذ کھڑا کیا ہے کہ یونیورسٹی میں کرنول کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، یہ انتہائی بے بنیاد الزام تراشی ہے- کوئی مجھے یہ بتلائے کہ چتور اور کڈپہ سے تدریسی یا غیر تدریسی عملہ میں کون کون شامل ہے؟ ہاں دو مؤظف پروفیسرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ یونیورسٹی کو ابتدائی مرحلے میں تجربہ کار اور انتظامی امور کے ماہرین کی خدمات حاصل ہو سکیں- دونوں پروفیسرز جزوقتی خدمات انجام دے رہے ہیں-
اب اہلیانِ کرنول پر یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ یونیورسٹی، آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے قائم کی گئی ہے، اس میں سب کی نمائندگی ہوگی، صرف قابلیت اور اہلیت واحد شرط ہے، کسی علاقے یا خطہ کی نمائندگی/وابستگی کا سوال ہی غلط اور بے بنیاد ہے-
ابتداء میں یونیورسٹی کا نام "آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی" تھا- پھر نمائندگی کی وجہ سے ڈاکٹر عبد الحق کے نام سے موسوم کیا گیا- پھر اس میں شک و التباس پیدا ہو گیا کہ یہ بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق ہیں جو انجمن ترقی اردو کے بانی ہیں، پھر حکومت کو وضاحت کرنی پڑی کہ یہ افضل العلماء ڈاکٹر عبد الحق کرنولی ہیں، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور مدراس میں کئی عہدوں پر فائز رہے-
اب چوں کہ اہلِ کرنول یونیورسٹی کو صرف کرنول کے افراد ہی کے لیے مختص کر دینا چاہتے ہیں، اور مقامی ایم ایل اے، ایم پی اور دیگر رسوخ والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی میں باہر کے لوگ ہیں (جب کہ سوائے ایک/دو کے سب کے سب کرنول کے ہیں)، اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کو نام کسی شخص سے موسوم کرنے کے بجائے آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی کرنول دیا جائے- تاکہ سب کے شعور میں یہ بات داخل ہو جائے اور بخوبی سمجھ میں آ جائے کہ یہ ریاست کے اہلِ اردو کے لیے بنائی گئی ہے، ملازمتوں، داخلوں اور دیگر فیض یابیوں کے لیے سبھی اہل اردو مستحق، حقدار اور اہل ہیں-
ڈاکٹر سید وصی اللّٰہ بختیاری عمری،
شعبہ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج، رائے چوٹی، ضلع کڈپہ، آندھرا پردیش.
vasibakhtiary@gmail.com
departmentofurdu@gmail.com
9441905026
8712135940