بڑی خوشی و مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دیتے ہوئے فرحت و انبساط محسوس کر رہا ہوں کہ اللَّه رب العزت کے فضل و کرم سے آج بتاريخ 7/ اگست 2019ء، بروز بدھ، برادرِ عزیز القدر سید نصر اللہ بختیاری سلّمہ الباری کے انگریزی ادب میں پی. ایچ. ڈی کا وائیوا منعقد ہوا-
وائیوا کے ممتحن ڈاکٹر وی. پی. انور سادات صاحب تھے جب کہ ان کے تحقيقی مقالے کے نگران کار جناب ڈاکٹر ایم. فاروق صاحب، صدرِ شعبۂ انگریزی، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم، تامل ناڈو رہے-
جناب سید نصر اللہ بختیاری کے انگریزی ادب میں تحقيقی مقالے کا عنوان ہے:
"مملکت، مذہب اور مصوری: اورحان پامُک کے منتخب ناولوں کا مطالعہ"
The State, Religion and Art: A Study of the Select Novels of Orhan Pamuk
عالی جناب ایس. ضیاء الدین صاحب (جنرل سیکرٹری، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، میل وشارم) جناب. کے. انیس احمد (کرسپانڈنٹ، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی)، پرنسپل ڈاکٹر ایس. اے. ساجد صاحب، ڈاکٹر محمد یاسر(شعبۂ اردو)، ڈاکٹر تمیم منصور(شعبۂ تامل)، ڈاکٹر وصی بختیاری، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم کے پروفیسرز، لیکچرارز، ریسرچ اسکالرز، شعبۂ انگریزی دی نیو کالج چینائی کے پروفیسرز، دیگر کالجوں کے لیکچرارز کے علاوہ اہلِ خانہ، اعزہ و أقارب وائیوا میں شریک رہے-
ڈاکٹر ایم. فاروق نے کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری ایک پرفیکٹ محقق ہیں، انہوں نے موضوع کے ساتھ کما حقہ انصاف کیا ہے- ان کے تحقيقی مقالے پر نیشنل اور انٹرنیشنل ممتحنوں کی آراء بہت شاندار رہیں اور مقالہ کی ستائش کی گئی ہے-
ترکی کے ناول نگار اورحان پامُک نے ترکی کے تاریخی پس منظر میں اپنی ناولوں میں ملک ترکی، مذہب اور آرٹ کے ضمن میں اسلامی طبقات اور تجدد پسندوں کے درمیان طبقاتی کشمکش کو اجاگر کیا ہے-
سامعین کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ کی گئی- تقریباً پندرہ شرکاء نے سوالات پوچھے- سوالات میں ترکی کا ماضی، ترکی میں مشرقیت و مغربیت کا مقابلہ، استنبول — ایک شہر کی یادداشت، سنو (جہاں برف گرتی ہے)، سرخ میرا نام اور دیگر ناولوں کے حوالے سے پوچھے گئے-
ڈاکٹر انور سادات نے تقریباً دس سوالات کئے- انہوں نے قسطنطنیہ، خلافتِ عثمانیہ، مغربیت اور اسلامیت کے تصادم وغیرہ پر سوالات اٹھائے گئے- ممتحن نے ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ اورحان پامک نے اپنے ناولوں میں اپنے ملک ترکی کے ماضی کو روشن اور شاندار بنا کر پیش کیا ہے یا اس پر منفی رویہ کا اظہار کیا ہے؟ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا پامک مغرب پسند ہیں اور انہوں نے مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنے ملک کے ماضی کو پیش کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اورحان پامک کے ناولوں میں استعارے، تشبیہات، علامات، تاریخی کردار، فرضی کردار کے علاوہ تصوف کی علامات، مذہبی اشارات اور اساطیر وغیرہ کی بہتات ہے- جس کی وجہ سے پامک کا مطالعہ آسان نہیں ہے-
سوالات جوابات کے بعد ڈاکٹر انور سادات نے حتمی طور پر کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری نے اپنے موضوع کا بھرپور حق ادا کیا ہے- انہوں نے بہترین مقالہ تحریر کیا ہے- میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں- انہوں نے کہا کہ میں جناب سید نصر اللہ بختیاری کے مقالے اور سوالات کے عمدہ جوابات سے اپنے اطمینانِ کلی کا اظہار کرتا ہوں اور انہیں پی. ایچ. ڈی. کی ڈگری کا مستحق قرار دیتا ہوں کہ ترولّور یونیورسٹی انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ کرے- میں انہیں ڈاکٹر سید نصر اللہ بختیاری قرار دے رہا ہوں-
ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر ایس. محمد یاسر، نیو کالج اور دیگر کالجوں کے اساتذہ نے نصر اللہ بختیاری کو مبارکباد پیش کی- مقالہ نگار نے تمام شرکاء اور متعلقین کا شکریہ ادا کیا، اس طرح تین گھنٹوں پر مشتمل اس وائیوا کا اختتام عمل میں آیا- بعد ازاں شعبۂ اردو میں پُر تکلف ظہرانہ کا انتظام کیا گیا-
الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.
___وصی بختیاری،
میل وشارم، 7 اگست، 2019ء.
...
بدھ، 7 اگست، 2019
سید نصر اللہ بختیاری کا وائیوا
جمعرات، 23 نومبر، 2017
ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر
ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر
جمعہ، 10 نومبر، 2017
مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری کا انتقال پُر ملال
حضرت مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری رحمه اللّه — مدیرِ ماہنامہ راہِ اعتدال و ڈائرکٹر ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، جامعہ دار السلام عمرآباد... آج بتاریخ 10 نومبر 2017ء کی صبح اولین ساعتوں میں انتقال کر گئے-
إنا لله وإنا إليه راجعون.
اللهم اغفر له و ارحمه و أدخله فصیح جناتك.
بدھ، 25 اکتوبر، 2017
مانو کا سیمینار ’’عہدِ آصف جاہی کی ثقافتی اور ادبی روایات اور عصری معنویت‘‘
منگل، 24 اکتوبر، 2017
علامہ اعجاز فرخ صاحب کا مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے لکھنؤ کیمپس میں توسیعی خطبہ

پیر، 9 اکتوبر، 2017
منگل، 26 ستمبر، 2017
"اردو یونیورسٹی اور اہلِ کرنول کا قابلِ مذمت رویہ"
"اردو یونیورسٹی اور اہلِ کرنول کا قابلِ مذمت رویہ"
آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی، کرنول کو ایک اہم علمی شخصیت ڈاکٹر أفضل العلماء عبد الحق کے نام سے موسوم کیا گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ خود ان کے افرادِ خاندان نے حکومت درخواست کی تھی-
اب کرنول کے لوگوں کا ایسا رویہ ہے اور اسی پر ان کی سوچ کی دھارا آگے بڑھ رہی ہے کہ اردو یونیورسٹی صرف کرنول کے لیے قائم کی گئی ہے- یونیورسٹی پورے آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے بنائی گئی ہے- اردو یونیورسٹی میں پورے آندھرا پردیش سے لوگ کام کرنے کے لیے، پڑھنے کے لیے اور انتظامی امور کو انجام دینے کے لیے منتخب کئے جائیں گے- بلکہ میں تو اس کا روادار ہوں کہ پورے ہندوستان کے افراد بھی بلا کسی جغرافیائی تفریق کے اس سے مستفید ہو سکتے ہیں- صوبہ آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے بیرونی ریاستوں کے قابل افراد کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں-
پچھلے چند دنوں سے بعض گوشوں کی جانب سے یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ اردو یونیورسٹی صرف کرنول کے افراد کے لیے ہے- مقامی افراد کو ملازمتوں میں نمائندگی نہ دیئے جانے کی شکایات کی جا رہی ہیں- جب کہ تقررات صرف عارضی طور پر جزو وقتی تدریسی و غیر تدریسی عملہ کے لیے ہوئے ہیں-
دفتری عملہ صد فیصد 💯 % کرنول کے مقامی افراد پر مشتمل ہے اور تدریسی عملہ میں اسی فیصد 80% لوگ ضلع کرنول سے تعلق رکھنے والے ہیں- صرف ایک ایک فرد نیلور، اننت پور کی نمائندگی کر رہا ہے-
اب جن لوگوں نے اردو یونیورسٹی کے خلاف یہ محاذ کھڑا کیا ہے کہ یونیورسٹی میں کرنول کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی، یہ انتہائی بے بنیاد الزام تراشی ہے- کوئی مجھے یہ بتلائے کہ چتور اور کڈپہ سے تدریسی یا غیر تدریسی عملہ میں کون کون شامل ہے؟ ہاں دو مؤظف پروفیسرز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں تاکہ یونیورسٹی کو ابتدائی مرحلے میں تجربہ کار اور انتظامی امور کے ماہرین کی خدمات حاصل ہو سکیں- دونوں پروفیسرز جزوقتی خدمات انجام دے رہے ہیں-
اب اہلیانِ کرنول پر یہ بات واضح ہو جانی چاہیے کہ یونیورسٹی، آندھرا پردیش کے اہل اردو کے لیے قائم کی گئی ہے، اس میں سب کی نمائندگی ہوگی، صرف قابلیت اور اہلیت واحد شرط ہے، کسی علاقے یا خطہ کی نمائندگی/وابستگی کا سوال ہی غلط اور بے بنیاد ہے-
ابتداء میں یونیورسٹی کا نام "آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی" تھا- پھر نمائندگی کی وجہ سے ڈاکٹر عبد الحق کے نام سے موسوم کیا گیا- پھر اس میں شک و التباس پیدا ہو گیا کہ یہ بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق ہیں جو انجمن ترقی اردو کے بانی ہیں، پھر حکومت کو وضاحت کرنی پڑی کہ یہ افضل العلماء ڈاکٹر عبد الحق کرنولی ہیں، جو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور مدراس میں کئی عہدوں پر فائز رہے-
اب چوں کہ اہلِ کرنول یونیورسٹی کو صرف کرنول کے افراد ہی کے لیے مختص کر دینا چاہتے ہیں، اور مقامی ایم ایل اے، ایم پی اور دیگر رسوخ والوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یونیورسٹی میں باہر کے لوگ ہیں (جب کہ سوائے ایک/دو کے سب کے سب کرنول کے ہیں)، اب مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یونیورسٹی کو نام کسی شخص سے موسوم کرنے کے بجائے آندھرا پردیش اردو یونیورسٹی کرنول دیا جائے- تاکہ سب کے شعور میں یہ بات داخل ہو جائے اور بخوبی سمجھ میں آ جائے کہ یہ ریاست کے اہلِ اردو کے لیے بنائی گئی ہے، ملازمتوں، داخلوں اور دیگر فیض یابیوں کے لیے سبھی اہل اردو مستحق، حقدار اور اہل ہیں-
ڈاکٹر سید وصی اللّٰہ بختیاری عمری،
شعبہ اردو، گورنمنٹ ڈگری کالج، رائے چوٹی، ضلع کڈپہ، آندھرا پردیش.
vasibakhtiary@gmail.com
departmentofurdu@gmail.com
9441905026
8712135940





