صفحات

بدھ، 11 ستمبر، 2019

سید ولی اللہ بختیاری کا وائیوا

سید ولی اللہ بختیاری کا وائیوا
نہایت خوشی و مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دیتے ہوئے شادمانی اور فرحت و انبساط کے جذبات محسوس کر رہا ہوں کہ آج علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ مینجمنٹ میں بزنس ایڈمنسٹریشن میں برادرم سید ولی اللہ بختیاری صاحب کا پی ایچ ڈی وائیوا کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا- میں ان کی خدمت میں پُر خلوص مبارکباد، ہدیۂ تبریک و تہنیت اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں-
Syed Valiullah Bakhtiyari

منگل، 13 اگست، 2019

ڈاکٹر حسن الدین احمد کا انتقال

ڈاکٹر حسن الدین احمد صاحب (آئی اے ایس) کے انتقال کی خبر موصول ہوئی-
إنا لله وإنا إليه راجعون.
الله تعالٰی ان کی مغفرت فرمائے اور انھیں اپنی جوارِ رحمت میں اعلی مقام عطا فرمائے، آمین.

ڈاکٹر حسن الدین احمد، آئی اے ایس افسر تھے- وہ نواب دین یار جنگ بہادر کے فرزند اور نواب رکن الدین احمد، اکاؤنٹنٹ جنرل، ریاست حیدرآباد کے داماد تھے-
ڈاکٹر حسن الدین احمد آئی اے ایس افسر کی حیثیت سے مختلف انتظامی عہدوں پر فائز رہے- وہ آندھرا پردیش وقف بورڈ اور مائنارٹیز کمیشن کے چیرمین بھی رہے- انہوں نے انگریزی شاعری کے منظوم اردو تراجم پر تحقیق کی اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی-
ڈاکٹر حسن الدین احمد نے اردو میں کئی کتابیں لکھی ہیں- ورق ورق جستجو (مضامین کا مجموعہ)، انگریزی شاعری کے منظوم اردو تراجم، ہندوستان کا معاشرتی نظام، اردو الفاظ شماری، فطری علاج کے علاوہ انجمن، محفل اور مجلس، خاکوں کے اہم اور دلچسپ مجموعے ہیں-
ڈاکٹر حسن الدین احمد کا 95 سال کی عمر میں آج صبح تقریباً چھ بجے انتقال ہو گیا- وہ کچھ عرصے سے علیل اور فریش تھے- ان کے انتقال سے ایک عہد کا خاتمہ ہو گیا- الله رب العزت غریق رحمت فرمائے،آمین.
جناب سید معظم راز صاحب سے موصولہ اطلاع کے مطابق
مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بروز منگل 13 اگست، بعد نماز ظہر (وقت نماز ظہر سوا بجے دوپہر) مسجد عزیز جنگ، نور خان بازار میں ادا کی جائے گی اور تدفین قبرستان مسجد الماس، چادگھاٹ عمل میں آئے گی-

بدھ، 7 اگست، 2019

سید نصر اللہ بختیاری کا وائیوا

بڑی خوشی و مسرت کے ساتھ یہ اطلاع دیتے ہوئے فرحت و انبساط محسوس کر رہا ہوں کہ  اللَّه رب العزت کے فضل و کرم سے آج بتاريخ 7/ اگست 2019ء، بروز بدھ، برادرِ عزیز القدر سید نصر اللہ بختیاری سلّمہ الباری کے انگریزی ادب میں پی. ایچ. ڈی کا وائیوا منعقد ہوا-
وائیوا کے ممتحن ڈاکٹر وی. پی. انور سادات صاحب تھے جب کہ ان کے تحقيقی مقالے کے نگران کار جناب ڈاکٹر ایم. فاروق صاحب، صدرِ شعبۂ انگریزی، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم، تامل ناڈو رہے-
جناب سید نصر اللہ بختیاری کے انگریزی ادب میں تحقيقی مقالے کا عنوان ہے:
"مملکت، مذہب اور مصوری: اورحان پامُک کے منتخب ناولوں کا مطالعہ"
The State, Religion and Art: A Study of the Select Novels of Orhan Pamuk
عالی جناب ایس. ضیاء الدین صاحب (جنرل سیکرٹری، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی، میل وشارم) جناب. کے. انیس احمد (کرسپانڈنٹ، میل وشارم مسلم ایجوکیشنل سوسائٹی)، پرنسپل ڈاکٹر ایس. اے. ساجد صاحب، ڈاکٹر محمد یاسر(شعبۂ اردو)، ڈاکٹر تمیم منصور(شعبۂ تامل)، ڈاکٹر وصی بختیاری، سی. عبد الحکیم کالج اٹانامس، میل وشارم کے پروفیسرز، لیکچرارز، ریسرچ اسکالرز، شعبۂ انگریزی دی نیو کالج چینائی کے پروفیسرز، دیگر کالجوں کے لیکچرارز کے علاوہ اہلِ خانہ، اعزہ و أقارب وائیوا میں شریک رہے-
ڈاکٹر ایم. فاروق نے کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری ایک پرفیکٹ محقق ہیں، انہوں نے موضوع کے ساتھ کما حقہ انصاف کیا ہے- ان کے تحقيقی مقالے پر نیشنل اور انٹرنیشنل ممتحنوں کی آراء بہت شاندار رہیں اور مقالہ کی ستائش کی گئی ہے-
ترکی کے ناول نگار اورحان پامُک نے ترکی کے تاریخی پس منظر میں اپنی ناولوں میں ملک ترکی، مذہب اور آرٹ کے ضمن میں اسلامی طبقات اور تجدد پسندوں کے درمیان طبقاتی کشمکش کو اجاگر کیا ہے-
سامعین کی جانب سے سوالات کی بوچھاڑ کی گئی-  تقریباً پندرہ شرکاء نے سوالات پوچھے- سوالات میں ترکی کا ماضی، ترکی میں مشرقیت و مغربیت کا مقابلہ، استنبول — ایک شہر کی یادداشت، سنو (جہاں برف گرتی ہے)، سرخ میرا نام اور دیگر ناولوں کے حوالے سے پوچھے گئے-
ڈاکٹر انور سادات نے تقریباً دس سوالات کئے- انہوں نے قسطنطنیہ، خلافتِ عثمانیہ، مغربیت اور اسلامیت کے تصادم وغیرہ پر سوالات اٹھائے گئے- ممتحن نے ایک سوال یہ بھی پوچھا کہ اورحان پامک نے اپنے ناولوں میں اپنے ملک ترکی کے ماضی کو روشن اور شاندار بنا کر پیش کیا ہے یا اس پر منفی رویہ کا اظہار کیا ہے؟ ایک سوال یہ بھی تھا کہ کیا پامک مغرب پسند ہیں اور انہوں نے مغربی تہذیب سے مرعوب ہو کر اپنے ملک کے ماضی کو پیش کیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ اورحان پامک کے ناولوں میں استعارے، تشبیہات، علامات، تاریخی کردار، فرضی کردار کے علاوہ تصوف کی علامات، مذہبی اشارات اور اساطیر وغیرہ کی بہتات ہے- جس کی وجہ سے پامک کا مطالعہ آسان نہیں ہے-
سوالات جوابات کے بعد ڈاکٹر انور سادات نے حتمی طور پر کہا کہ جناب سید نصر اللہ بختیاری نے اپنے موضوع کا بھرپور حق ادا کیا ہے- انہوں نے بہترین مقالہ تحریر کیا ہے- میں انہیں مبارکباد دیتا ہوں- انہوں نے کہا کہ میں جناب سید نصر اللہ بختیاری کے مقالے اور سوالات کے عمدہ جوابات سے اپنے اطمینانِ کلی کا اظہار کرتا ہوں اور انہیں پی. ایچ. ڈی. کی ڈگری کا مستحق قرار دیتا ہوں کہ ترولّور یونیورسٹی انہیں ڈاکٹریٹ کی ڈگری ایوارڈ کرے- میں انہیں ڈاکٹر سید نصر اللہ بختیاری قرار دے رہا ہوں-
ڈاکٹر فاروق، ڈاکٹر ایس. محمد یاسر، نیو کالج اور دیگر کالجوں کے اساتذہ نے نصر اللہ بختیاری کو مبارکباد پیش کی- مقالہ نگار نے تمام شرکاء اور متعلقین کا شکریہ ادا کیا، اس طرح تین گھنٹوں پر مشتمل اس وائیوا کا اختتام عمل میں آیا- بعد ازاں شعبۂ اردو میں پُر تکلف ظہرانہ کا انتظام کیا گیا-
الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات.
___وصی بختیاری،
میل وشارم، 7 اگست، 2019ء.
...

جمعرات، 23 نومبر، 2017

ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر

ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول میں رجسٹرار کا تقرر 


رپورٹ : ڈاکٹر وصی بختیاری عمری، رائے چوٹی
vasibakhtiary@gmail.com 

آج 23 نومبر 2017ء کو ڈاکٹر شاہدہ اختر صاحبہ نے کرنول میں ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی میں بحیثیت رجسٹرار جائزہ حاصل کیا۔ وہ اردو یونیورسٹی میں سابق رجسٹرار پروفیسر ستار ساحر کی جگہ لے رہی ہیں، جن کی معیاد 23 اگست 2017ء کو ختم ہو گئی تھی۔
وائس چانسلر پروفیسر مظفر علی شہہ میری نے رجسٹرار صاحبہ کا یونیورسٹی میں استقبال کیا۔ انہیں یونیورسٹی میں رجسٹرار کے عہدے پر تقرر نامہ عطا کیا۔ تدریسی و غیر تدریسی عملہ نے انہیں مبارکباد پیش کی۔ 
ڈاکٹر شاہدہ اختر صاحبہ کا تعلق علاقہ آندھرا پردیش کے گنٹور سے ہے۔تدریسی میدان میں ان کا تعلق شعبہ کمپیوٹر سائنس سے ہے۔ وہ صدرشعبہ کمیوٹر سائنس کی حیثیت سے خودمختار زنانہ کالج، گورنمنٹ کالج فار ویمن اٹانامس، گنٹور میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔ انہوں نے آچاریہ ناگرجنا یونیورسٹی ، گنٹور سے کمپیوٹر سائنس میں بی ایس سی، ایم ایس سی اور پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی۔ انہوں نے برلا انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالوجی اینڈ سائنس ، پلانی سے سافٹ ویئر سسٹم میں ایم ایس کی ڈگری بھی حاصل کی ہے۔ انہیں تقریباً بیس سالہ تدریسی و انتظامی تجربہ حاصل ہے۔ وہ آچاریہ ناگرجنا یونیورسٹی ، گنٹور کی ایگزیکیٹیو کاؤنسل کی رکن بھی ہیں۔ 
ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی ، کرنول ، ایک ریاستی جامعہ ہے۔ مقننہ آندھرا پردیش کی جانب سے قائم شدہ اس یونیورسٹی کاسنگ بنیاد آندھرا پردیش کے وزیرِ اعلیٰ جناب نارا چندرا بابو نائیڈو نے 9 نومبر 2015ء کورکھا تھا۔
17؍ اگست 2016ء سے باقاعدہ کلاسس کا آغاز ہوا۔ اس نو زائیدہ یونیورسٹی کی کارکردگی اور اس کی کلاسس ایک سال تک عثمانیہ کالج کرنول کی عمارت میں ہوئیں۔ فی الحال یونیورسٹی ‘ ایک کشادہ عارضی عمارت میں چل رہی ہے۔حکومت کی جانب سے کرنول کے نواح میں بمقام ’ اورواکل ‘ 144 ایکڑ اراضی اردو یونیورسٹی کے لیے مختص کی گئی ہے۔ اس یونیورسٹی میں اس وقت آٹھ کورسز چل رہے ہیں۔ چار پی جی کے کورسز اور چار انڈر گریجویٹ آنرز کے کورسز۔ایم اے اردو، ایم اے انگریزی، ایم اے معاشیات اور ایم کام کے علاوہ بی اے اردو ، بی اے اکنامکس اور بی کام و بی ایس سی کے کورسس چلا ئے جا رہے ہیں۔ 
یقین ہے کہ آئندہ تعلیمی سال سے چند پروفیشنل کورسز کے علاوہ انٹگریٹیڈ ایم ایس سی وغیرہ کئی کورسز شروع کئے جائیں گے۔ ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر مظفر علی شہہ میری یونیورسٹی کو ایک اعلیٰ تعلیم و تحقیق کا مرکز بنانے کے لیے پُر عزم ہیں۔

(ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری عمری ، اسسٹنٹ پروفیسر ، شعبۂ اردو ، گورنمنٹ ڈگری کالج، رائے چوٹی، ضلع کڈپہ ، آندھرا پردیش۔ )
vasibakhtiary@gmail.com
9441905026

-- 





جمعہ، 10 نومبر، 2017

مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری کا انتقال پُر ملال

حضرت مولانا حبیب الرحمٰن زاہد اعظمی عمری رحمه اللّه — مدیرِ ماہنامہ راہِ اعتدال و ڈائرکٹر ادارہ تحقیقاتِ اسلامی، جامعہ دار السلام عمرآباد... آج بتاریخ 10 نومبر 2017ء کی صبح اولین ساعتوں میں انتقال کر گئے-
إنا لله وإنا إليه راجعون.
اللهم اغفر له و ارحمه و أدخله فصیح جناتك.

بدھ، 25 اکتوبر، 2017

مانو کا سیمینار ’’عہدِ آصف جاہی کی ثقافتی اور ادبی روایات اور عصری معنویت‘‘


مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی میں ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن کے زیر اہتمام دو روزہ قومی سیمینار بعنوان: ’’عہدِ آصف جاہی کی ثقافتی اور ادبی روایات اور عصری معنویت‘‘ 10 اور 11 اکتوبر 2017 کو منعقد ہوا تھا۔ 
اس سیمینار کے افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر اسلم پرویزصاحب، وائس چانسلر، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، حیدرآباد نے فرمائی تھی۔ 
مہمانانِ خصوصی/ اعزازی میں پروفیسر جی. گوپال ریڈی (ممبر، یونیورسٹی گرانٹس کمیشن)، پروفیسر بی. شیخ علی (سابق وائس چانسلر، منگلور و گوا یونیورسٹی)، پروفیسر مظفر علی شہہ میری (وائس چانسلر، ڈاکٹر عبد الحق اردو یونیورسٹی، کرنول)، علامہ اعجاز فرخ (ماہرِ دکنیات، حیدرآباد) شامل تھے۔ اس اجلاس میں پروفیسر آذر می دخت صفوی (ڈائرکٹر، پرشین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ) نے کلیدی خطبہ پیش کیا اور حضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب نے خصوصی خطاب فرمایا۔ 
سیمینار کے ڈائرکٹر پروفیسر نسیم الدین فریس، ڈائرکٹر ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن، مانو نے خطبہ استقابالیہ پیش کیا اور سیمینار کے کوآرڈی نیٹر پروفیسر شاہد نوخیز اعظمی، جوائنٹ ڈائرکٹر مرکز برائے مطالعاتِ دکن نے افتتاحی اجلاس کی نظامت کے فرائض انجام دیے۔
افتتاحی اجلاس کے ویڈیو کو آج مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے انسٹرکشنل میڈیا سینٹر نے یو ٹیوب پر پیش کیا ہے۔ شکریہ 
کے ساتھ اشتراک کر رہا ہوں۔
 اس ویڈیو میں حضرت علامہ اعجاز فرخ صاحب کی تقریر ایک گھنٹہ چھ منٹ کے بعد شروع ہوتی ہے: تقریباً ڈھائی گھنٹے سے زیادہ وقت پر ویڈیو محیط ہے- علامہ صاحب قبلہ کو 1.06.50 پر ملاحظہ فرمائیں؛