صفحات

ہفتہ، 26 اپریل، 2014



ڈاکٹر ساغرجیّدی ۔ حیات اورا دبی کارنامے

تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ.ڈی

 ایس.وی .یونیورسٹی، تروپتی - 2014

مقالہ نگار: حافظ محمد انور حسین صاحب

(شعبۂ اردو ، پی.وی.کے.این.گورنمنٹ کالج ، چتّور)

نگران:پروفیسر(موظف) بشیر احمد

(سابق صدرِ شعبۂ اردو، ایس.وی .یونیورسٹی، تروپتی)

پہلا باب:
حصہ الف:حیات' کڈپہ کا ادبی پس منظر
ساغرصاحب کا خاندانی پس منظر' پیدائش، بچپن، تعلیم،
ذریعۂ معاشازدواج و اولاد۔ تفریحی مشاغلحصہ ب :ادبی شخصیت کی تکمیلابتدائی مشق( تلگو ، ہندی)اردو شاعری کا آغاز۔ وجوہاتتلمّذ۔ ابراحسنی گنّوریعربی فارسی کی تعلیم(مولوی یعقوب صاحب بغدادی)کڈپہ کے بزرگ شعراءنوجوان شعراء کا حلقہاختلافات و اعترافاتساغر صاحب کا ادبی رویّہ
دوسرا باب:ساغر صاحب کی شاعریاصنافِ سخنمذہبی شاعریغزلنظمرباعیدوہامجموعی جائزہتیسرا باب:ساغرصاحب کی نثر:تخلیقی نثر( باریکہ)مضامین (صوفی دھاگے)(ہیروں کا تاج)تلگو رسم الخط میں کتابچےمختلف کتابوں پر رائے / تأ ثراتمجموعی جائزہ

چوتھا باب:ساغرصاحب کی ادبی تنظیمی خدماتادب کا ذوقکڈپہ میں نوجوان شعراء کے حلقے کی تشکیللہجے گروپ کی شناخت میں اہم رولرائل سیما رائٹرس فیڈریشن کا قیاممحمڈن ویلفیر سوسائٹی ، کڈپہحج کمیٹیضلع گرندھا لیہضلع رچئی تُلا سنگم ( تلگو)مجموعی جائزہ

پانچواں باب:حاصل مطالعہ:ساغر صاحب کی شخصیت کے اہم اوصافساغر صاحب کی شاعری کے امتیازاتساغرصاحب کی نثر کے امتیازاتساغرصاحب کے بارے میں ناقدین کی آراءساغرصاحب کے بارے میں احباب کی آراءتجزیہ


چھٹا باب:کتابیات

                                                                                                                    *وصی بختیاری*

جمعہ، 21 جون، 2013


ڈاکٹر ساغر جیّدی کا سانحۂ ارتحال


اردو دنیا میں یہ خبر نہایت غم اور رنج کے ساتھ سنی جائے گی کہ آندھراپردیش کے علاقۂ رائل سیما کے شہر کڈپہ کے مشہور ومعروف شاعر ڈاکٹر ساغر جیّدی کا انتقال ۱۸جون ۲۰۱۳ کو کڈپہ میں ہوگیا۔
 انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ 
شہر کڈپہ کے یعقوب صاحب مسجد میں آپ کی نمازِ جنازہ ۱۹جون ۲۰۱۳ کو بعدِ نمازِ ظہر ادا کی گئی اور جسد سے متصل قبرستان میں آپ کے جسدِ خاکی کو سپردِ خاک کیا گیا۔ 
اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ، حسنات کو قبول فرمائے اور اعلیٰ علیّین میں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین .




ڈاکٹر ساغر جیّدی کا سانحۂ ارتحال

اردو دنیا میں یہ خبر نہایت غم اور رنج کے ساتھ سنی جائے گی کہ آندھراپردیش 
کے علاقۂ رائل سیما کے شہر کڈپہ کے 
مشہور ومعروف شاعر ڈاکٹر ساغر جیّدی کا انتقال ۱۸جون ۲۰۱۳ کو کڈپہ میں ہوگیا۔
 انا للہ وانا الیہ راجعون ۔ 
شہر کڈپہ کے یعقوب صاحب مسجد میں آپ کی نمازِ جنازہ ۱۹جون ۲۰۱۳ کو بعدِ نمازِ ظہر ادا کی گئی اور جسد سے متصل قبرستان میں آپ کے جسدِ خاکی کو سپردِ خاک کیا گیا۔ 
اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے ، حسنات کو قبول فرمائے اور اعلیٰ علیّین میں اپنی جوارِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین 

اتوار، 19 مئی، 2013

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج۔ پلمنیر غزل

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری
اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج۔ پلمنیر

غزل
غرور وعجز دیکھا ہے، نیاز و ناز دیکھا ہے
زبس کہ میں نے دنیا کا ہر اک انداز دیکھا ہے
خلوصِ دل، وفا کیشی، نہ ہمدردی نہ غمخواری
یہاں میں نے ہر اک ہمدم ہر اک دمساز دیکھا ہے
سکوتِ شب، طلوعِ سحر، وقتِ شام گویا ہیں
خموشی کے بھی پردے میں چھپا اک ساز دیکھا ہے
جہالت کی ستائش ہے، ہمہ دانی کا دعویٰ بھی
جہالت کی نمائش کا عجب انداز دیکھا ہے
مسلسل جہد کرتا ہو، دعا بھی رب سے کرتا ہو
اسی انساں کو دنیا نے تو سر افراز دیکھا ہے
بہت سے دل قساوت میں ہوئے ہیں سنگ دل لیکن
بسا اوقات پتھر میں گدازِ ساز دیکھا ہے
غزل کہنے کی جب بھی میں نے کوشش کی بحمداللہ
وصیؔ میں نے تغزّل مائلِ پرواز دیکھا ہے

خود شناسی ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج۔ پلمنیر

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری
اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج۔ پلمنیر
  

خود شناسی

اِدراکِ جہالت سے
احساسِ ہمہ دانی ہوجائے اگر زائل
آجائے نظر خود کو
آئینہ
صداقت کا !
مرآتِ حقیقت میں پیکر ہی عجب ہوگا
عکسِ رخِ زیبا کا
منظر ہی عجب ہوگا
لیکن
یہ حقیقت ہے
دنیا میں بڑا مشکل
جوکام ہے
بس یہ ہے
اپنی ہی جہالت کاادراک کیا جائے!!
یہ بھی تو حقیقت ہے
ادراکِ جہالت توممکن ہے مگر ہمدم
اظہارِ جہالت تو ممکن بھی نہیں ہوتا

خاموش گوئی ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری

ڈاکٹر سید وصی اللہ بختیاری

اسسٹنٹ پروفیسر، گورنمنٹ کالج۔ پلمنیر

vasibakhtiary@gmail.com

خاموش گوئی

وہ موجوں کا تلاطم ہے

وہ جھرنوں کا ترنم ہے

تصدّق جس پہ گویائی

خموشی جس پہ نازاں ہے

تکلّم جس کو کہتے ہیں

وہ اک ایسا تبسّم ہے

جو موسیقی ہے فطرت کی

زباں عشق و محبت کی

نوا صدق و صداقت کی

صدا گویا حقیقت کی

خموشی کی زباں ہے یہ

نہ پیچ وخم قواعد کے

نہ بحثیں لفظ ومعنیٰ کی

نہ لفظوں کے بکھیڑے ہیں

نہ جملوں کے جھمیلے ہیں

خموشی کی زباں ہے یہ

بلاغت اِس میں شامل ہے

فصاحت اِس میں داخل ہے

خموشی کی زباں ہے یہ

کہ دل کی ترجماں ہے یہ! !


 

PALAMANER NATIONAL SEMINAR PHOTOS